’شریعت‘ سے متعلق صدر ٹرمپ کا بیان اسلاموفوبک، نسل پرستانہ اور عورت دشمن ہے، مئیر لندن صادق خان
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
لندن کے میئر صادق خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ برطانیہ کے دارالحکومت میں اسلامی شریعت قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میئر صادق خان کو شاہی عشائیے میں مدعو نہ کرنے کی درخواست کی تھی، صدر ٹرمپ کا انکشاف
صادق خان نے ٹرمپ کے بیان کو ’اسلاموفوبک‘ قرار دیتے ہوئے صدر کو نسل پرست، جنسی تعصب رکھنے والا اور عورت دشمن بھی کہا۔
جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کا بیانصدر ٹرمپ نے منگل کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے لندن کی صورتحال کو ’خطرناک حد تک تبدیل شدہ‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ اب وہ شریعت قانون کی طرف جانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی امیگریشن پالیسی اور توانائی کے خودکشی جیسے خیالات مغربی یورپ کی تباہی کا سبب بنیں گے”
صادق خان کا ردعملبدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صادق خان نے کہاکہ یہ حیران کن ہے کہ ایک مسلمان میئر، جو ایک ترقی پسند، کثیرالثقافتی اور کامیاب شہر کی قیادت کرتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں اتنی جگہ گھیر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بار بار اپنے تعصبات واضح کیے ہیں ٹرمپ نسل پرست ہیں، وہ جنسی تعصب رکھتے ہیں، عورت دشمن ہیں اور اسلاموفوبک ہیں۔
یاد رہے کہ صادق خان 2016 میں لندن کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوئے اور وہ کسی مغربی ملک کے دارالحکومت کے پہلے مسلم میئر بھی ہیں۔
ان کے مطابق ریکارڈ تعداد میں امریکی لندن کا سفر کر رہے ہیں کیونکہ یہ دنیا کا سب سے عظیم شہر ہے۔
اسلامی شریعت قانون، جیسا کہ کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق ہے، مذہب اور قانون کا ایک امتزاج ہے جو مسلمانوں کو روحانی اور قانونی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے بیشتر مسلم اکثریتی ممالک میں شریعت پر مبنی قوانین نافذ ہیں۔
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر لندن کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے صادق خان کو ’ناقابلِ قبول میئر‘ قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شریعت صادق خان صدر ٹرمپ میئرلندن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔