اترپردیش میں حضرت پیغمبر اسلام (ص) کی شان میں گستاخی، علاقے میں کشیدگی
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
ملیح آباد کے ایک پرائیویٹ اسکول میں زیر تعلیم 11ویں جماعت کے ہندو طالب علم نے انسٹاگرام اور فیس بک پر پیغمبر اسلام (ص) کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کئے۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش کے ملیح آباد اور کاکوری میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب ایک ہندو طالب علم نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام (ص) کے بارے میں اشتعال انگیز تبصرہ پوسٹ کیا۔ اس واقعہ سے مشتعل ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ صورتحال بگڑتی دیکھ کر اسکول انتظامیہ نے طالب علم کو فوری طور پر نکال دیا جب کہ پولیس نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ ملیح آباد کے ایک پرائیویٹ اسکول میں زیر تعلیم 11ویں جماعت کے ہندو طالب علم نے انسٹاگرام اور فیس بک پر پیغمبر اسلام (ص) کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کئے۔ طالب علم کی پوسٹ تیزی سے وائرل ہوگئی، جس سے مسلمانوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔ مشتعل مقامی لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوگئے اور پولیس اسٹیشن پہنچ کر ملزم طالب علم کے خلاف سخت کارروائی اور فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
پولیس اسٹیشن میں بڑے اجتماع کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر پہنچے۔ پولیس نے مشتعل ہجوم کو پُرسکون کرنے کی کوشش کی اور انہیں یقین دلایا کہ قابل اعتراض تبصرہ پوسٹ کرنے والے کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کی یقین دہانی کے بعد ہی ہجوم پُرسکون ہوا۔ تاہم حالات کی سنگینی اور کسی بھی ممکنہ بدامنی کے پیش نظر علاقے میں سکیورٹی کے لئے بڑی پولیس فورس تعینات کی گئی۔ اسکول انتظامیہ نے بھی فوری ایکشن لیا۔ اسکول انتظامیہ نے پولیس اسٹیشن میں تحریری درخواست جمع کرائی، جس میں کہا گیا کہ یہ تعلیم کا مندر ہے اور یہاں کسی قسم کی شرارت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انتظامیہ نے قابل اعتراض تبصرہ کرنے والے طالب علم کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ اے سی پی کاکوری شکیل احمد نے بتایا کہ ملزم طالب علم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، کیس میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیغمبر اسلام پولیس اسٹیشن انتظامیہ نے طالب علم کے خلاف
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔
دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار
مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔
حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS
— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026
جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔
عالمی منڈیوں میں بھی مندیعالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک