نیب کا زلفی بخاری کی زرعی اراضی نیلام کرنے کا فیصلہ، اشتہار جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
کارروائی ڈپٹی ڈائریکٹر کوارڈ انویسٹی گیشن ونگ کے احکامات پر کی جا رہی ہے، نیلامی یکم اکتوبر کو ہوگی
نیلام کی جانیوالی اراضی میں ایک رقبہ 771 کنال 9 مرلے اور دوسرا رقبہ 25 کنال 7 مرلے پر مشتمل ہے
قومی احتساب بیورو (نیب) نے زلفی بخاری کی 800 کنال زرعی اراضی نیلام کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اشتہار جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کی 800 کنال زرعی اراضی نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر تحصیل جنڈ ضلع اٹک نے باضابطہ نیلامی کا اشتہار بھی جاری کردیا، جس کے تحت نیلامی یکم اکتوبر کو دن 11 بجے میونسپل دفتر جنڈ میں ہوگی۔بتایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء کے کلاف یہ کارروائی ڈپٹی ڈائریکٹر کوارڈ انویسٹی گیشن ونگ کے احکامات پر کی جا رہی ہے، زلفی بخاری کی نیلام کی جانے والی اراضی میں ایک رقبہ 771 کنال 9 مرلے اور دوسرا رقبہ 25 کنال 7 مرلے پر مشتمل ہے۔بتایا جارہا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس کے اشتہاری ملزمان میں فرحت شہزاد عرف فرح گوگی بھی شامل ہیں، جنوری 2024ء میں عدالت نے عرف فرح گوگی، زلفی بخاری اور شہزاد اکبر سمیت 6 ملزمان کو اشتہاری قرار دیا تھا، حال ہی میں موہڑہ نوربنی گالا میں 405 کنال زرعی اراضی فی کنال 34 لاکھ 20 ہزار میں نیلام کی گئی، کلب روڈ کے سولہ کنال کے موٹل کے پلاٹ اور دو سواڑتالیس کنال زرعی زمین کی بولی میں کسی نے حصہ نہیں لیا، اسسٹنٹ کمشنر سیکریٹریٹ عزیر علی خان اور دیگر کمیٹی ممبران کی موجودگی میں نیلامی ہوئی۔اسسٹنٹ کمشنر سیکریٹریٹ کی جانب سے نیلامی کے جاری اشتہار میں کہا گیا تھا کہ نیلامی میں موضع موہڑہ نور کی جائیداد کو پیش کیا جائے گا، نیلامی میں 248 کنال 8 مرلے رقبہ اور 405 کنال 3 مرلے رقبہ نیلام کیا جائے گا، نیلامی میں حصہ لینے والے افراد کیلئے 50 لاکھ روپے کا پیآرڈر چیٔرمین نیب کے نام جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا، مذکورہ شخص نیلامی میں حصہ لینے سے پہلے جائیداد کا دورہ کرسکتا ہے، متعلقہ پٹواری نیلامی میں حصہ لینے والوں کو تمام تفصیلات فراہم کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: زلفی بخاری کی نیلامی میں کنال زرعی نیلام کی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔