اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں 5.5 شدت کے خوفناک زلزلے کے جھٹکے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی ۔زلزلے کا مرکز افغانستان کے کوہ ہندوکش ریجن میں تھا، جبکہ اس کی گہرائی 195 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔گہرائی زیادہ ہونے کے باعث زلزلہ مختصر دورانیے کا تھا، مگر کئی علاقوں میں اس کے اثرات محسوس کئے گئے۔زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد ،راولپنڈی ، پشاور،چترال، لوئر دیر، سوات، مالاکنڈ ڈویژن، رستم، چارسدہ، شبقدر اور تنگی میں بھی محسوس کئے گئے۔ شہری خوف کے باعث گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ماہرین کے مطابق کوہ ہندوکش ریجن زلزلہ خیز علاقہ ہے، جہاں اس نوعیت کے جھٹکے معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، تاہم عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ