پنجاب میں اسموگ سے نمٹنے کیلئے جامع منصوبہ تیار
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
لاہور:
پنجاب میں اسموگ سے نمٹنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا۔
ماحولیاتی بہتری کیلئے قائم اسموگ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ فضائی آلودگی ناپنے کا جدید نظام شروع کیا جا رہا ہے۔ صوبے بھر میں ائیر کوالٹی مانیٹرنگ کے 38 مراکز قائم ہو چکے ہیں جنہیں بڑھا کر 41 کیا جائے گا جبکہ فضائی معیار جانچنے کے لئے پانچ موبائل سسٹمز بھی تیار کر لئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے شہریوں کو بروقت معلومات دینے کے لئے ہر آٹھ گھنٹے بعد ایئرکوالٹی رپورٹ جاری کرنے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ دھان کی باقیات کو جلانے کے بجائے کسانوں کو سپر سیڈرز سمیت جدید زرعی مشینری فراہم کی جائے گی جس کی تعداد بڑھا کر پانچ ہزار کردی گئی ہے، اس کے ساتھ ہی کسانوں کیلئے ہارویسٹر پروگرام متعارف کرانے اور زرعی مشینری ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کرنے کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسموگ کے خاتمے کے لئے حکومت نے 12 ڈرون اسکواڈز اور 8 ای اسکواڈز تعینات کر دیے ہیں۔ لاہور میں پی ایچ اے کو "لنگز آف لاہور" اور "لاہور رنگ" جیسے منصوبے بروقت مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ شہریوں کو صاف فضا فراہم کی جا سکے۔
اسی طرح فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں کچرا ٹھکانے لگانے کے لئے پانچ ارب روپے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لئے پہلی مرتبہ "لیکوڈ ٹری" یا مائع شجر کاری کا منصوبہ بھی شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے جو ان علاقوں میں لگایا جائے گا جہاں عام درخت اگنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
مزید یہ کہ دھند کم کرنے کیلئے 15 فوگ کینن اور زہریلی گیسوں کے تجزیے کی 25 جدید مشینیں محکمہ ماحولیات کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ خراب انجن اور ضرورت سے زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں سڑک پر نہیں آسکیں گی اور تین بار جرمانے کے باوجود انجن درست نہ کرانے والوں کی گاڑیاں بند کر دی جائیں گی۔
پلاسٹک بیگز پر پابندی کو سخت کرنے کے لئے صوبے میں نو پلاسٹک زونز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ضبط شدہ پلاسٹک بیگز کو ری سائیکل کرکے سرکاری اسکولوں میں رنگ دار کوڑے دان لگائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ 31 اکتوبر تک پنجاب کے تمام اسکولوں میں یہ کوڑے دان نصب کر دیے جائیں۔
اجلاس میں شہریوں کیلئے شکایات درج کرانے کا نیا طریقہ بھی منظور کیا گیا جس کے تحت فون نمبر 1737 کو ہیلپ لائن 15 سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی خلاف ورزی پر عمارت سیل کرنے کے فیصلے کے خلاف آن لائن اپیل دائر کی جا سکے گی جس پر 48 گھنٹے میں فیصلہ سنایا جائے گا۔
سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ سموگ کی سنگین صورتحال میں تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ عوام کو اسموگ سے بچاؤ اور ماحول کی بہتری کے لئے آگاہی مہم میں حکومت کا ساتھ دیں۔
اجلاس میں صوبائی وزراء مجتبیٰ شجاع الرحمن، خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، سید عاشق حسین کرمانی اور ملک صہیب احمد بھرت سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصلہ کیا جائے گا کرنے کی کے لئے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘