بھارت کی شکایت، پاکستانی کرکٹرز آج میچ ریفری کے سامنے پیش ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کی جانب سے آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات پر قومی کرکٹر حارث رؤف اور صاحبزادہ فرحان آج میچ ریفری کے سامنے پیش ہوں گے۔
ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے دوران صاحبزادہ فرحان نے نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد خوشی کے اظہار میں بلے کو بندوق کی شکل دے کر فائر کرنے کا اشارہ کیا تھا۔
اسی میچ میں فاسٹ بولر حارث رؤف نے وکٹ حاصل کرنے کے بعد اور باؤنڈری لائن کے قریب فیلڈنگ کے دوران بھارتی تماشائیوں کی ہوٹنگ کا جواب ایک طیارہ تباہ ہونے کے اشارے سے دیا تھا۔
پاکستان کے خلاف میچ جیتنے کے باوجود بھارتی کرکٹ بورڈ اور شائقین کو حارث رؤف کا انداز ناگوار گزرا، جس پر بھارت نے پاکستانی کرکٹرز کے خلاف آئی سی سی میں باضابطہ شکایت درج کرادی۔
اس شکایت کے تناظر میں آج حارث رؤف اور صاحبزادہ فرحان میچ ریفری رچی رچرڈسن کے سامنے پیش ہوں گے۔
ادھر گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے دائر شکایت پر آئی سی سی نے بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کو تنبیہ کی، جب کہ تفصیلی فیصلے میں ان پر جرمانہ عائد کیے جانے کا بھی امکان
ہے ـ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔