غزہ کیلیے کچھ نہ کرنے پر تاریخ اور آئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی؛ بنگلادیش
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
بنگلہ دیشی عبوری صدر محمد یونس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ غزہ میں نسل کشی دن کی روشنی میں اور سب کے سامنے ہورہی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیشی صدر محمد یونس نے مزید کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے بین الاقوامی انکوائری کمیشن کی اس رپورٹ سے اتفاق کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیاں واضح طور پر نسل کشی ہیں اور یہ سب کچھ پوری دنیا کے سامنے براہِ راست ہورہا ہے۔
بنگلادیشی صدر محمد یونس نے کہا کہ بدقسمتی سے انسانیت کی جانب سے اس جارحیت کو روکنے کے لیے ہم وہ کچھ نہیں کر رہے جو ضروری ہے۔
انھوں نے مزید کہا اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ آنے والی نسلیں اور نہ ہی تاریخ ہمیں معاف کرے گی۔ ہم واقعی ایک نسل کشی کو براہِ راست دیکھ رہے ہیں۔
بنگلادیشی صدر نےعالمی برادری پر زور دیا کہ فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کی جانیں بچائی جا سکیں اور انسانی المیہ مزید نہ بڑھے۔
صدر محمد یونس نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے یارو مددگار تارکین وطن بڑی تعداد میں بنگلادیش آرہے ہیں۔
بنگلادیشی صدر نے عالمی برادری اور قوتوں سے مطالبہ کیا اس مسئلے کے لیے حل اپنا کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صدر محمد یونس نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔