پشاور ہائیکورٹ: پاکستانی خواتین سے شادیاں کرنے والے افغانوں کو ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پشاور:
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستانی خواتین سے شادیاں کرنے والے افغان شہریوں کو ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم دے دیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستانی خواتین کی اپنے افغان شوہروں کیلئے شہریت کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نادرا کو اپلائی کریں اور نادرا درخواست گزاروں کے کیس کو قانون کے مطابق دیکھے اور جب تک نادرا اس کیس فیصلہ نہ کرے تو درخواست گزار کو ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار خاتون کا شوہر افغان شہری ہے، درخواست گزار نے شہریت کے لئے پاکستان اوریجن کارڈ ( پی او سی) کے لئے نادرا کو اپلائی کیا ہے، وکیل کے مطابق نادرا نے ابھی تک درخواست گزار کے شوہر کو کارڈ جاری نہیں کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اس عدالت نے 1 دسمبر 2023 کو نورین مسعود بنام سرکار کیس میں فیصلہ دیا ہے، اس کیس میں نادرا لیگل ڈائریکٹر نے عدالت میں کہا تھا کہ میاں بیوی میں ایک بھی پاکستانی ہوں تو بچوں کے رجسٹریشن سے انکار نہیں کیا جاسکتا، وکیل کے مطابق درخواست گزارہ پاکستانی شہری ہے، اور ان کے بچے بھی ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اس کیس کو بھی 1 دسمبر 2023 کیس کے فیصلے کی روشنی میں نمٹایا جاتا ہے، درخواست گزار نادرا کو اپلائی کریں اور نادرا اس کے کیس کو قانون کے مطابق دیکھیں، درخواست گزار کو کیس کے فیصلے تک ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درخواست گزار ڈی پورٹ نہ کے مطابق میں کہا
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔