سندھ میں ایچ پی وی ویکسینیشن مہم میں 3 دن کی توسیع کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
کراچی سمیت سندھ بھر میں ایچ پی وی کے خلاف مہم میں تین دن توسیع کا علان کردیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 12 روزہ مہم میں 59 فیصد بچیوں کو ویکسین لگائی گئی ہے جبکہ بقیہ41 فیصد بچیوں کو ویکسین لگانے کے لیئے اسکولوں میں سیشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔
موبائل ٹیم کو بھی کیچ اپ مہم کے لیئے سرگرمیاں جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، اس سلسلے میں ایکسپینڈڈ پروگرام آن ایمیونائزیشن سندھ کے پروچیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر راج کمار نے تمام ضلعی سطح کے ہیلتھ آفیسرز کو خط لکھ دیا ہے۔
خط کے مطابق سندھ میں جاری ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کے پہلے 12 دنوں میں 59 فیصد بچیوں کو ویکسین دی گئی ہے۔ مقررہ ہدف پورا کرنے کے لیے محکمہ صحت سندھ نے آج 29 ستمبر سے یکم اکتوبر تک تین روز کی توسیع کی ہے۔ اس دوران خاص توجہ ان یونین کونسلز پر دی جائے گی جہاں زیادہ بچیاں ویکسین سے محروم رہ گئی ہیں۔
اسکولوں میں سیشن بھی جاری رکھے جائیں گے جہاں کوریج 80 فیصد سے کم ہے یا ٹیمیں ابھی تک نہیں پہنچی ہیں۔ اس سلسلے میں تمام فیلڈ ٹیموں اور نگرانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بغیر کسی اضافی بجٹ کے کیچ اپ سرگرمیوں میں حصہ لیں۔
محکمہ تعلیم کو مہم میں شامل رکھ کر اسکولوں میں رسائی بہتر بنائی جائے گی۔ ڈپٹی
کمشنرز ضلعی سطح پر کیچ اپ سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔ سماجی رہنماؤں، اساتذہ، والدین اور مذہبی رہنماؤں کو آگاہی سیشنز میں شریک کیا جائے گا تاکہ عوامی تائید اور ویکسین پر اعتماد میں اضافہ ہو۔
دوسری جانب سول سوسائٹی کی تنظیموں کی مدد سے کمیونٹی آؤٹ ریچ بیھی بڑھائی جائے گی۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ صحت مراکز اور ضلعی سطح پر استعمال شدہ ویکسین وائلز کا درست ریکارڈ رکھا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گئی ہے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔