بنگلہ دیش، قبائلی لڑکی کے گینگ ریپ کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلہ دیش کی چٹاگانگ ڈویژن میں قبائلی لڑکی کے گینگ ریپ کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے، فسادات اور آبادیوں پر حملے سے تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جس کے بعد فوج نے کرفیو نافذ کردیا۔ویب سائٹ ’ایشین نیوز نیٹ ورک‘ کے
مطابق ضلع خگراچھری کے گوئمارا علاقے میں اسکول کی طالبہ کے ریپ کے خلاف مقامی جمہ کمیونٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ اور ہنگاموں سے تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔چٹاگانگ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) احسن حبیب کے مطابق واضح نہیں ہے کہ ہنگاموں کے دوران کس نے فائرنگ کی، تاہم اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔عینی شاہدین کے مطابق جمہ چھتر جنتا نامی تنظیم نے 23 ستمبر کو آٹھویں جماعت کی طالبہ کے ریپ کے خلاف احتجاج کرنا شروع کردیا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں اور ہنگاموں میں تبدیل ہوا۔علاقہ مکینوں کے مطابق نقاب پوش افراد نے بازار میں دکانیں اور گھر لوٹے، جس کے بعد انہوں نے کاروباری مراکز سمیت گھروں کو بھی آگ لگادی۔مقامی افراد کے مطابق ہنگاموں اور مظاہروں میں مقامی مرما کمیونٹی کی دکانیں اور گھر زیادہ متاثر ہوئے جبکہ موٹرسائیکلیں بھی جلائی گئیں، دکانداروں پر چھریوں سے حملے بھی کیے گئے۔حالات کشیدہ ہونے کے بعد انتظامیہ کو علاقے میں کرفیو نافذ کرنا پڑی جب کہ سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی۔بنگلہ دیشی فوج کے میڈیا ونگ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق یونائیٹڈ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (یو پی ڈی ایف) نے سیکشن 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کیں اور فائرنگ کی، جس سے 10 فوجی اور ایک بی جی بی گاڑی کو نقصان پہنچا، تاہم فوج نے حالات پر قابو پالیا۔وزارت داخلہ نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی جب کہ امن کو برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں فوج تعینات رہے گی۔مذکورہ کشیدگی 23 ستمبر کو سنگینیلا میں اسکول کی طالبہ کے گینگ ریپ کے واقعے سے شروع ہوئی، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار بھی کر رکھا ہے۔مذکورہ واقعے میں سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے نے بھی حالات کو بگاڑا، قبائلی کمیونٹیز نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگائے، جس سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق ریپ کے کے بعد
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.