Jasarat News:
2026-06-02@22:47:32 GMT

بنگلہ دیش، قبائلی لڑکی کے گینگ ریپ کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

بنگلہ دیش، قبائلی لڑکی کے گینگ ریپ کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلہ دیش کی چٹاگانگ ڈویژن میں قبائلی لڑکی کے گینگ ریپ کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے، فسادات اور آبادیوں پر حملے سے تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جس کے بعد فوج نے کرفیو نافذ کردیا۔ویب سائٹ ’ایشین نیوز نیٹ ورک‘ کے
مطابق ضلع خگراچھری کے گوئمارا علاقے میں اسکول کی طالبہ کے ریپ کے خلاف مقامی جمہ کمیونٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ اور ہنگاموں سے تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔چٹاگانگ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) احسن حبیب کے مطابق واضح نہیں ہے کہ ہنگاموں کے دوران کس نے فائرنگ کی، تاہم اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔عینی شاہدین کے مطابق جمہ چھتر جنتا نامی تنظیم نے 23 ستمبر کو آٹھویں جماعت کی طالبہ کے ریپ کے خلاف احتجاج کرنا شروع کردیا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں اور ہنگاموں میں تبدیل ہوا۔علاقہ مکینوں کے مطابق نقاب پوش افراد نے بازار میں دکانیں اور گھر لوٹے، جس کے بعد انہوں نے کاروباری مراکز سمیت گھروں کو بھی آگ لگادی۔مقامی افراد کے مطابق ہنگاموں اور مظاہروں میں مقامی مرما کمیونٹی کی دکانیں اور گھر زیادہ متاثر ہوئے جبکہ موٹرسائیکلیں بھی جلائی گئیں، دکانداروں پر چھریوں سے حملے بھی کیے گئے۔حالات کشیدہ ہونے کے بعد انتظامیہ کو علاقے میں کرفیو نافذ کرنا پڑی جب کہ سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی۔بنگلہ دیشی فوج کے میڈیا ونگ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق یونائیٹڈ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (یو پی ڈی ایف) نے سیکشن 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کیں اور فائرنگ کی، جس سے 10 فوجی اور ایک بی جی بی گاڑی کو نقصان پہنچا، تاہم فوج نے حالات پر قابو پالیا۔وزارت داخلہ نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی جب کہ امن کو برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں فوج تعینات رہے گی۔مذکورہ کشیدگی 23 ستمبر کو سنگینیلا میں اسکول کی طالبہ کے گینگ ریپ کے واقعے سے شروع ہوئی، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار بھی کر رکھا ہے۔مذکورہ واقعے میں سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے نے بھی حالات کو بگاڑا، قبائلی کمیونٹیز نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگائے، جس سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوا۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق ریپ کے کے بعد

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق