data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کردیا ہے کہ سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں کسی قسم کی عمومی توسیع نہیں کی جائے گی۔

حکام کے مطابق ٹیکس دہندگان کو ریٹرن فائل کرنے کے لیے پہلے ہی مناسب وقت دیا جا چکا ہے اور اب تاریخ میں تبدیلی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

ایف بی آر نے زور دے کر کہا کہ اگر کوئی ٹیکس دہندہ کسی شدید مجبوری یا ہنگامی صورتحال کا شکار ہو تو انفرادی طور پر صرف 15 دن کی توسیع دی جا سکتی ہے، تاہم اس کی منظوری شرائط اور ٹھوس وجوہات کے ساتھ ہی ممکن ہوگی۔ حکام نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ریٹرن فائلنگ کا آن لائن نظام سست روی کا شکار ہے۔

ایف بی آر کے مطابق آئرس پورٹل مکمل طور پر فعال ہے اور صارفین کے لیے درست طور پر خدمات فراہم کر رہا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک کے زیادہ تر ٹیکس دہندگان ان علاقوں میں مقیم ہیں جو حالیہ سیلاب سے متاثر نہیں ہوئے، لہٰذا ریٹرن جمع کرانے کے لیے مزید رعایت دینا ضروری نہیں سمجھا گیا۔

ادارے نے ان خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹیکس گوشواروں کی تاریخ آگے بڑھا دی جائے گی۔

ایف بی آر نے متنبہ کیا ہے کہ مقررہ تاریخ یعنی 30 ستمبر کے بعد ریٹرن فائل نہ کرنے والے ٹیکس دہندگان کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کا نام  لیٹ فائلر  کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا، جس سے ان کی ٹیکس پروفائل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایف بی آر

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف