سپر ٹیکس لگانے پر سوال بنتا ہے، نظر ثانی کرنی چاہیے،وکیل
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت آج منگل تک ملتوی کر دی، درخواست گزار کمپنیز کے وکیل شہزاد عطا الٰہی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ 2023 کے تمام کیسز سندھ سمیت دیگر صوبوں سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ہوئے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ مجھے تو اس وقت کے وفاقی وزیر پر ترس آرہا ہے.
ہیں۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔ درخواست گزار کمپنیز کے وکیل امتیاز رشید صدیقی اور شہزاد عطا الہی نے اپنے دلائل دیے۔وکیل امتیاز رشید صدیقی نے دلائل میں کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں سپر ٹیکس لگانے پر سوال بنتا ہے اور اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے، لاہور ہائیکورٹ کے سنگل اور ڈویژن بینچ نے ٹیکس پیئر کو ریلیف دیا ہے۔درخواست گزار کمپنیز کے وکیل نے کہا کہ آئین پاکستان موجود ہے اور آئین مجھے ریلیف دیتا ہے، یکم جولائی 2022 سے میں وہ ٹیکس بھی دینے کا پابند ہوں جو میں گزشتہ سال دے چکا ہوں۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریکارکس دیے کہ 2023 کے تمام کیسز سندھ سمیت دیگر صوبوں سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ہوئے ہیں۔وکیل شہزاد عطا الٰہی نے کہا کہ 10 جون 2022 کو بینکوں کی تفصیلات سامنے آئیں مگر 24 جون کو دیگر 13 سیکٹرز کا نام بھی سامنے آگیا، 10 جون 2022 کو صرف بینکوں کا بل تھا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے 24 جون 2022 کو اپنی تقریر میں کہا کہ 13 مزید انڈسٹریز کا پتا لگا ہے اب ٹیکس 10 فیصد لگا رہے ہیں، وفاقی وزیر نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا 30 کروڑ سے زائد آمدنی پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگائیں گے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ مجھے تو اس وقت کے وفاقی وزیر پر ترس آرہا ہے۔وکیل شہزاد عطا الٰہی نے کہا کہ ایف بی آر 116 کمپنیز کا ڈیٹا فراہم کر رہا ہے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے لسٹ میں شامل کی ہوئی ہیں، میں نے اپٹما میں 500 کمپنیز کی لسٹ دیکھی ہے حکومت کے پاس صرف 20 فیصد کمپینوں کا ڈیٹا ہے، حکومت کے پاس جن کمپنیوں کا ڈیٹا ہے وہ خود ہر تین ماہ بعد اپنا ڈیٹا پبلش کرتی ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت آج منگل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر سپر ٹیکس دیے کہ
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔