اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی جج ہمایوں دلاور کے خلاف دائر درخواست خارج کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے جج ہمایوں دلاور خان کے خلاف دائر درخواست کو عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دیا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے منگل کو کیس کی سماعت کی اور قرار دیا کہ چونکہ درخواست گزار کی جانب سے مزید پیروی نہیں کی گئی، اس لیے یہ درخواست خارج کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے 2023 میں یہ مؤقف اپناتے ہوئے درخواست دائر کی تھی کہ ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے ان کے خلاف فیس بک پر مبینہ پوسٹس کیں، جو تعصب کا مظہر ہیں، اس لیے ان کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔
جج ہمایوں دلاور نے الیکشن کمیشن کے ریفرنس پر توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی پی ٹی آئی کو سزا سنائی تھی۔
درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ جج کے جانبدارانہ رویے کے باعث انہیں توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت سے الگ کیا جائے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جج ہمایوں دلاور
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔