واشنگٹن: امریکا نے تہران سے معاہدے کے بعد تقریباً 100 ایرانی شہریوں کو ملک بدر کردیا ہے۔ 

ان افراد کی شناخت اور امریکا آنے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ ایک امریکی چارٹرڈ فلائٹ امریکی ریاست لوزیانا سے روانہ ہوئی جو قطر کے راستے ایران پہنچی۔

رپورٹ کے مطابق کچھ ایرانی شہریوں نے کئی ماہ حراستی مراکز میں رہنے کے بعد رضاکارانہ طور پر واپس جانے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ کچھ کو زبردستی بھیجا گیا۔ ایران کی وزارتِ خارجہ ان افراد کی واپسی کے انتظامات کر رہی ہے اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انہیں وطن واپس آنے پر کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی امریکا میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں غیر قانونی سرحدی داخلوں میں اضافہ ہوا، اس لیے یہ اقدام ضروری ہے۔ تاہم ان کی انتظامیہ کو ملک بدری کی رفتار بڑھانے میں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال فروری میں بھی امریکا نے ایران اور پاناما سمیت 119 ممالک کے شہریوں کو واپس بھیجا تھا، جب کہ 23 مارچ 2025 کو ٹرمپ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کی قانونی حیثیت ختم کی جا رہی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان