Daily Mumtaz:
2026-06-03@06:49:28 GMT

نیتن یاہو کا یوٹرن: فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

نیتن یاہو کا یوٹرن: فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنے مؤقف میں حیران کن تبدیلی کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کر دی ہے، حالانکہ کچھ ہی گھنٹے قبل وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے سے اتفاق کا اظہار کر چکے تھے۔

نیتن یاہو حالیہ دنوں میں امریکی دورے پر واشنگٹن پہنچے، جہاں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے غزہ میں جنگ بندی اور قیامِ امن کے مجوزہ منصوبے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کی امید دلائی اور اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ منصوبے پر پیش رفت ضروری ہے۔

تاہم، وطن واپسی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کے مؤقف میں یکسر تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے واضح الفاظ میں کہا کہ اُنہوں نے صدر ٹرمپ سے فلسطینی ریاست کے قیام پر کوئی اتفاق نہیں کیا، اور نہ ہی یہ شق امن منصوبے کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرے گا بلکہ اسرائیلی فوج غزہ کے کئی علاقوں میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی۔

اس اچانک اور واضح یوٹرن نے نہ صرف عالمی مبصرین بلکہ امریکی قیادت کو بھی حیران کر دیا ہے۔ ماہرین اس تبدیلی کو نیتن یاہو کی “دوہری حکمت عملی” قرار دے رہے ہیں، جس کے مطابق وہ بین الاقوامی دباؤ کے تحت امن منصوبے کی حمایت کا تاثر دیتے ہیں، لیکن ملکی سیاست اور شدت پسند حلقوں کو خوش کرنے کے لیے سخت گیر مؤقف اختیار کرتے ہیں۔

یہ صورتحال اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ اسرائیلی قیادت تاحال فلسطینی ریاست کے تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، چاہے عالمی برادری کتنا ہی دباؤ ڈالے یا مسلم دنیا کتنی ہی حمایت فراہم کرے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے بقول اس امن منصوبے کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر جیسے اہم مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے ایک بات واضح ہو گئی ہے: مشرقِ وسطیٰ میں امن کی راہ اب بھی طویل، کٹھن اور پیچیدہ ہے، اور حقیقی تبدیلی کے لیے محض منصوبے نہیں، بلکہ نیت، عزم اور یکساں اخلاقی معیار کی ضرورت ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کے قیام نیتن یاہو

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان