Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:15:22 GMT

نیتن یاہو کا یوٹرن: فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

نیتن یاہو کا یوٹرن: فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنے مؤقف میں حیران کن تبدیلی کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کر دی ہے، حالانکہ کچھ ہی گھنٹے قبل وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے سے اتفاق کا اظہار کر چکے تھے۔

نیتن یاہو حالیہ دنوں میں امریکی دورے پر واشنگٹن پہنچے، جہاں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے غزہ میں جنگ بندی اور قیامِ امن کے مجوزہ منصوبے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کی امید دلائی اور اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ منصوبے پر پیش رفت ضروری ہے۔

تاہم، وطن واپسی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کے مؤقف میں یکسر تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے واضح الفاظ میں کہا کہ اُنہوں نے صدر ٹرمپ سے فلسطینی ریاست کے قیام پر کوئی اتفاق نہیں کیا، اور نہ ہی یہ شق امن منصوبے کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرے گا بلکہ اسرائیلی فوج غزہ کے کئی علاقوں میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی۔

اس اچانک اور واضح یوٹرن نے نہ صرف عالمی مبصرین بلکہ امریکی قیادت کو بھی حیران کر دیا ہے۔ ماہرین اس تبدیلی کو نیتن یاہو کی “دوہری حکمت عملی” قرار دے رہے ہیں، جس کے مطابق وہ بین الاقوامی دباؤ کے تحت امن منصوبے کی حمایت کا تاثر دیتے ہیں، لیکن ملکی سیاست اور شدت پسند حلقوں کو خوش کرنے کے لیے سخت گیر مؤقف اختیار کرتے ہیں۔

یہ صورتحال اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ اسرائیلی قیادت تاحال فلسطینی ریاست کے تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، چاہے عالمی برادری کتنا ہی دباؤ ڈالے یا مسلم دنیا کتنی ہی حمایت فراہم کرے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے بقول اس امن منصوبے کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر جیسے اہم مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے ایک بات واضح ہو گئی ہے: مشرقِ وسطیٰ میں امن کی راہ اب بھی طویل، کٹھن اور پیچیدہ ہے، اور حقیقی تبدیلی کے لیے محض منصوبے نہیں، بلکہ نیت، عزم اور یکساں اخلاقی معیار کی ضرورت ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کے قیام نیتن یاہو

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل