غیر ملکی فلموں پر سو فیصد ٹیرف لگایا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی فلموں پر سو فیصد ٹیرف لگایا جائےگا۔ صدر ٹرمپ نے ایسا کرنے سے متعلق مئی میں بھی خبردار کیا تھا تاہم اس وقت عمل کرنے سے گریز کیا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایسی تمام فلموں پر ٹیکس لگائیں گے جو امریکا سے باہر تیار کی جائیں گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ فلموں کے بزنس کو دیگر ممالک نے امریکا سے ایسے چرایا ہے جیسے بچوں سے ٹافی چرا لی جاتی ہے۔
کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک گورنر گیون نیوسم کو کمزور اور نااہل گورنر قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگر ممالک کے اس اقدام سے سب سے زیادہ متاثر کیلیفورنیا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان ممالک پر بھی قابل ذکر ٹیرف عائد کیا جائے گا جو امریکا میں فرنیچر تیار نہیں کریں گے۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد میئر امیدوار نیویارک زہران ممدانی پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ زہران ممدانی ری پبلکن پارٹی کے لیے بہترین ثابت ہوں گے کیونکہ انہیں واشنگٹن کے ساتھ ایسے مسائل کا سامنا ہوگا جو تاریخ میں کسی میئر کو نہیں ہوا ہوگا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وعدے مکمل کرنے کے لیے زہران کو امریکی صدر سے رقم چاہیے ہوگی اور وہ انہیں رقم نہیں دیں گے اس لیے زہران کو ووٹ دینے کا لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صدر ٹرمپ نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔