ٹرمپ کا 20 نکاتی غزہ امن منصوبہ کیا ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
وائٹ ہاؤس نے طویل انتظار کے بعد بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے متعارف کرایا گیا 20 نکاتی امن منصوبے کی تفصیلات جاری کردیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس امن منصوبے کے تحت حماس زیادہ سے زیادہ 72 گھنٹوں کے اندر 32 لاشیں اور 22 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گا۔
جس کے جواب میں اسرائیلی فوجیں بھی غزہ کے متعدد علاقوں سے انخلا کریں گی اور صرف چند اہم مقام تک ہی محدود ہوں گی۔
غزہ میں حماس کی حکومت کرکے ایک عبوری ٹیکنوکریٹ حکومت چلائے گی جس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت اہم عالمی نمائندے شامل ہوں گے۔
اس عبوری حکومت کے خدوخال اور اس میں شامل عالمی نمائندوں کے ناموں کا اعلان بات میں کیا جائے گا تاہم اس کے سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ ہی کریں گی۔ جن کی اولین ذمہ داری غزہ کی بحالی اور امن کا قیام ہوگا۔
اسرائیلی حکومت غزہ سے عوام کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کرے گی اور یرغمالیوں کے بدلے 250 عمر قید کے قیدیوں سمیت معمولی جرم میں گرفتار مزید 1700 فلسطینوں کو بھی رہا کرے گا۔
یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے آزاد کرنے کے عمل کے دوران اسرائیلی فوجی کارروائیاں معطل اور مرحلہ وار فوجی انخلا جاری رہے گا۔
امن منصوبے کو قبول کرنے والے حماس رہنماؤں اور کارکنان کو عام معافی دی جائے گی جبکہ باقی کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
علاقائی اور بین الاقوامی افواج غزہ کو سیکیورٹی فراہم کریں گی اور فلسطینی پولیس کو تربیت دیں گی، جبکہ انسانی امداد بلا رکاوٹ پہنچائی جائے گی۔
فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امریکا پُرامن بقائے باہمی کے لیے براہِ راست مذاکرات کی سہولت بھی فراہم کرے گا۔
خیال رہے کہ یہ اب تک کی دستیاب معلومات ہیں تاحال واضح نہیں کہ غزہ کی بین الاقوامی عبوری حکومت کی میعاد کیا ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔
پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔
مزید :