ڈیلرشپ اور ڈسٹری بیوشن معاہدوں میں کمپٹیشن قانون کے خلاف شقیں شامل نہ کی جائیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
کمپٹیشن کمیشن نے انتباہ جاری کیا ہے کہ ڈیلرشپ اور ڈسٹری بیوشن معاہدوں میں کمپٹیشن قانون کے خلاف شقیں شامل نہ کی جائیں، خصوصی صورتحال میں کمیشن سے لازمی استثنیٰ حاصل کیا جائے، استثنی کے بغیر معاہدوں میں کمپٹیشن مخالف شقوں پر بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔
اپنے بیان میں کمپٹیشن کمیشن نے کہا ہے کہ کمیشن سے استثنیٰ کے بغیر ایسے کاروباری معاہدے کالعدم تصور ہوں گے، صرف صارفین کے مفاد اور معاشی ترقی کے پیش نظر ہی ایسے معادہوں کے لیے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے، ایسے معاہدوں پر دیے جانے والے استثنیٰ مشروط اور مخصوص مدت کے لئے ہوتا ہے۔
کمیشن نے کہا ہے کہ کمپنیاں استشنی کی شرائط کی باقاعدہ رپورٹس جمع کرانے کے پابند ہیں، استثنیٰ کی شرائط کی خلاف ورزی پر ایگزیمپشن منسوخ ہوگا اور قانونی کارروائی کی جائے گی، استثنیٰ کی شرائط کی خلاف ورزی پر 7 کروڑ 50 لاکھ جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :