کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ڈیلرشپ معاہدے اور استثنیٰ کے حصول کے بارے میں کاروباری اداروں کے لیے ایڈوائزری جاری کردی۔

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ ڈیلرشپ، ڈسٹری بیوشن، ایجنسی یا ہول سیل سے متعلق معاہدوں میں کمپٹیشن ایکٹ سے متصادم اور ممنوعہ شقوں کی موجودگی ایکٹ کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی قرار دی جائے گی۔

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ قوانین کے تحت کمیشن سے استثنیٰ (ایگزیمپشن) حاصل کیے بغیر اس نوعیت کے معاہدے ابتدا سے ہی غیرمؤثر تصور کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ استثنیٰ کی درخواستیں بھی صرف ان معاہدوں کے لیے منظور کی جا سکتی ہیں جو کمپٹیشن (ایگزیمپشن) ریگولیشنز 2020 کے مطابق  اور پیداوار میں اضافے، تکنیکی و معاشی بہتری اور صارفین کے بہتر مفاد میں تصور ہوں گے۔

کمیشن نے کاروباری اداروں کو باور کرایا ہے کہ ایگزیمپشن کے آرڈر مشروط ہوتے ہیں تاکہ ایسے معاہدوں کو ٹرانسفر پرائسنگ، ناجائز منافع خوری یا صارفین کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کیا جائے، ایسے معاہدوں میں ایگزیمپشن آرڈر کی تمام شرائط کی سختی سے پابندی ضروری ہے۔

اس حوالے سے کاروباری ادارے کمیشن کو کسی بھی ترمیم، مارکیٹ میں تبدیلی، کاروباری کارکردگی اور صارفین کو حاصل ہونے والے فوائد سے متعلق باقاعدہ رپورٹس جمع کروانے کے پابند ہوتے ہیں۔

اگر کوئی ادارہ یا کمپنی استشنی کی شرائط کی خلاف ورزی کرے یا ایگزیمپشن کی مدت ختم ہونے سے پہلے اس کی تجدید نہ کروائے تو کمیشن کو کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 6 کے تحت مجوزہ ایگزیمپشن آرڈر منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ ایسے ادارے کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

ایسی صورت میں مجوزہ کمپنی پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے یا سالانہ ٹرن اوور کےدس فیصد کے مساوی جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، ایگزیمپشن کی شرائط کی خلاف ورزی یا عدم تعمیل سے متعلق شکایات کمپٹیشن کمیشن ویب سائٹ پر دستیاب شکایتی پورٹل پر یا تحریری طور پر جمع کروا سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کاروباری اداروں کمپٹیشن کمیشن

پڑھیں:

رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔

درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری