ٹیکس گوشواروں میں دولت چھپانے والوں کی نشاندہی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کاروباری طبقے کے انکم ٹیکس گوشواروں کا باریک بینی سے آڈٹ کرے گا تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے ایف بی آر نے ایک لاکھ انکم ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کی تیاری مکمل کر لی ہے، جو یکم اکتوبر سے شروع کی جائے گی۔
پاکستان میں کاروباری طبقہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے بڑی تعداد میں کاروباری افراد ٹیکس نہیں دیتے یا آمدنی چھپا کر کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس دہندگان دستاویزی ثبوت دیے بغیر اثاثے ظاہر کرسکتے ہیں، ایف بی آر
حکومت اور ایف بی آر بارہا کوششیں کر چکے ہیں کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے، لیکن اب بھی ٹیکس دہندگان کی تعداد نہایت کم ہے۔
ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں میں سے جن افراد نے اپنے گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کی ہیں یا دولت چھپائی ہے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خاص طور پر ان افراد کے گوشواروں کا آڈٹ کیا جائے گا جنہوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ٹیکس جمع کرایا ہے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر کا بڑا فیصلہ، ٹیکس چوری کی ٹھیک اطلاع پر ڈیڑھ کروڑ تک کا اعلان کردیا
ایف بی آر نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ونگ قائم کیا ہے جس میں تربیت یافتہ آڈیٹرز شامل ہیں، یہ ماہرین کاروباری طبقے کے گوشواروں کی مکمل جانچ پڑتال کریں گے اور ٹیکس چوری یا کم اثاثے ظاہر کرنے کی نشاندہی کریں گے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جن کاروباری افراد نے درست اور مکمل معلومات کے ساتھ گوشوارے جمع کرائے ہیں، انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔
تاہم، 30 ستمبر تک درست گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آڈٹ آڈیٹرز انکم ٹیکس ایف بی آر ٹیکس چوری گوشوارے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آڈٹ آڈیٹرز انکم ٹیکس ایف بی ا ر ٹیکس چوری گوشوارے ٹیکس چوری ایف بی آر کم ٹیکس
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔