WE News:
2026-06-03@02:24:03 GMT

ٹیکس گوشواروں میں دولت چھپانے والوں کی نشاندہی کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

ٹیکس گوشواروں میں دولت چھپانے والوں کی نشاندہی کا فیصلہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کاروباری طبقے کے انکم ٹیکس گوشواروں کا باریک بینی سے آڈٹ کرے گا تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے ایف بی آر نے ایک لاکھ انکم ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کی تیاری مکمل کر لی ہے، جو یکم اکتوبر سے شروع کی جائے گی۔

پاکستان میں کاروباری طبقہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے بڑی تعداد میں کاروباری افراد ٹیکس نہیں دیتے یا آمدنی چھپا کر کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس دہندگان دستاویزی ثبوت دیے بغیر اثاثے ظاہر کرسکتے ہیں، ایف بی آر

حکومت اور ایف بی آر بارہا کوششیں کر چکے ہیں کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے، لیکن اب بھی ٹیکس دہندگان کی تعداد نہایت کم ہے۔

ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں میں سے جن افراد نے اپنے گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کی ہیں یا دولت چھپائی ہے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

خاص طور پر ان افراد کے گوشواروں کا آڈٹ کیا جائے گا جنہوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ٹیکس جمع کرایا ہے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر کا بڑا فیصلہ، ٹیکس چوری کی ٹھیک اطلاع پر ڈیڑھ کروڑ تک کا اعلان کردیا

ایف بی آر نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ونگ قائم کیا ہے جس میں تربیت یافتہ آڈیٹرز شامل ہیں، یہ ماہرین کاروباری طبقے کے گوشواروں کی مکمل جانچ پڑتال کریں گے اور ٹیکس چوری یا کم اثاثے ظاہر کرنے کی نشاندہی کریں گے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جن کاروباری افراد نے درست اور مکمل معلومات کے ساتھ گوشوارے جمع کرائے ہیں، انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔

تاہم، 30 ستمبر تک درست گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آڈٹ آڈیٹرز انکم ٹیکس ایف بی آر ٹیکس چوری گوشوارے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آڈٹ آڈیٹرز انکم ٹیکس ایف بی ا ر ٹیکس چوری گوشوارے ٹیکس چوری ایف بی آر کم ٹیکس

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا