ارنَب گوسوامی نے بھارتی فالس فلیگ بیانیہ بے نقاب کر دیا، حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر سخت سوالات
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
نئی دہلی: بھارتی میڈیا کے معروف اینکر ارنَب گوسوامی نے نئی دہلی دھماکے پر اپنی نشریات کے دوران پہلی بار بھارتی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر کھل کر سوالات اٹھا دیے، جس سے بی جے پی حکومت مشکل میں پڑ گئی۔
ریپبلک ٹی وی کے لائیو پروگرام میں ارنب گوسوامی نے کہا کہ "الفلاح یونیورسٹی سے صبح 7:40 پر نکلنے والی گاڑی کس طرح 60 کلومیٹر طے کر کے لال قلعہ پہنچی، کسی نے دیکھی کیوں نہیں؟" اینکر نے سوال اٹھایا کہ جب دہلی میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں تو پھر دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کیسے کسی چیک پوسٹ یا ناکے پر روکی نہیں گئی؟
انہوں نے مزید کہا کہ اگر دہلی پولیس اور انٹیلیجنس ادارے بروقت حرکت میں آ جاتے تو یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا۔ ارنب کے ان بیانات پر سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی اور بھارتی عوام نے ان کے کلپس وائرل کر دیے۔
دفاعی ماہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ارنب گوسوامی کو یہ کیسے علم تھا کہ دہلی پولیس کو مخصوص گاڑی روکنی چاہئے تھی؟ کیا وہ پہلے سے فالس فلیگ آپریشن سے واقف تھے؟
پروگرام کے دوران ارنب نے الفلاح یونیورسٹی انتظامیہ پر بھی سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ “کیا اس ادارے میں سہولت کار سرگرم ہیں؟” لائیو شو میں موجود حکومتی ترجمان ارنب کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ارنب گوسوامی، جو ہمیشہ ریاستی بیانیے کی تائید کرتے تھے، اب خود حکومت کی انٹیلیجنس ناکامی تسلیم کرنے پر مجبور نظر آ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ بھارتی میڈیا کے فالس فلیگ بیانیے کی سب سے بڑی شکست ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔