جب تک مریم نواز معافی نہیں مانگتیں، قانون سازی میں حصہ نہیں لیں گے، پی پی کا سینیٹ سے بھی واک آوٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
جب تک مریم نواز معافی نہیں مانگتیں، قانون سازی میں حصہ نہیں لیں گے، پی پی کا سینیٹ سے بھی واک آوٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے بیان پر سینیٹ سے واک آوٹ کردیا۔سینیٹ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ضمیر گھمرو کا کہنا تھاکہ وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ سے لوگوں کی امداد کی جائے، پنجاب حکومت نے ایسے بیانات دیے جس کی پیپلز پارٹی مذمت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کے بیانات وفاق کو نقصان پہنچاتے ہیں، یہ بیان ہمارا پانی ہماری مرضی، وفاق کے خلاف بیان ہے، پھر کوئی صوبہ کہہ دے ہمارا پیٹرول ہماری مرضی، ہماری گندم ہماری مرضی۔ان کا کہنا تھاکہ کینال کے مسئلے پر ہم نے اپنے اعتراضات سی سی آئی میں دیے، وزیر اعلی پنجاب نے کینال منصوبے کا افتتاح کیا۔پی پی سینیٹر نے اعلان کیا کہ جب تک وزیر اعلی پنجاب مریم نواز معافی نہیں مانگتیں، ہم کسی قانون سازی میں حصہ نہیں لیں گے۔پیپلز پارٹی نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے بیان پر سینیٹ کے ایوان سے واک آوٹ کرلیا۔
اس سے قبل پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی سے واک آوٹ کیا تھا۔ قومی اسمبلی میں نوید قمر نے اعتراض اٹھایاکہ یہ میرا پانی میرا پیسہ کا کیا مطلب ہے؟ ،مریم نواز کی تقریر پر بہت افسوس ہوا ہے، پنجاب میں پہلی بار ایسا سیلاب آیا لیکن سندھ کو اس کا تجربہ ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ماضی کے تجربات پراگر مشورہ دیتے ہیں تواسے تنقید کیوں سمجھتے ہیں؟ پنجاب کا مسئلہ کیوں بناتے ہیں۔ نوید قمر کے اعتراض کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی نے ایوان سے واک آوٹ کیا۔ اس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ لفظی جنگ سیاست کا حصہ ہے لیکن کسی کی دل آزادی ہوئی ہے تو معذرت خواہ ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو بھی مخاطب کیا اور کہاکہ زیادہ خوش ہونیکی ضرورت نہیں، پیپلز پارٹی کا احتجاج ہمارے گھر کا معاملہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرافی چاہیے تو بھارتی کپتان آکر مجھ سے وصول کرلے، محسن نقوی کا صدر بی سی سی آئی کو واضح جواب ٹرافی چاہیے تو بھارتی کپتان آکر مجھ سے وصول کرلے، محسن نقوی کا صدر بی سی سی آئی کو واضح جواب دو ریاستی حل پر جب تک فلسطینی فیصلہ نہیں کرلیتے کوئی حل مسلط نہیں کیا جاسکتا، فضل الرحمان انڈونیشیا دستے بھیجنے کو تیار،پاکستان جلد فلسطین اپنی فوج بھیجنے کا فیصلہ کرے گا، اسحاق ڈار معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست،بھارتی پراکسیز کارروائیوں میں مصروف خضدار میں فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشن، 7 دہشت گرد ہلاک، 10 زخمی مریم نواز کی حالیہ تقاریر پر پیپلز پارٹی ناراض، حکمران اتحاد سےعلیحدگی کی دھمکی، اسمبلی سے واک آؤٹCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی سے واک آوٹ مریم نواز پارٹی نے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :