سعودی کابینہ کا غزہ میں جنگ بندی اور امن معاہدے کی حمایت
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
سعودی کابینہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ سعودی مملکت، فلسطینی عوام کے ساتھ ہے اور خطے میں امن کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا یقینی بنایا جائے تاکہ فلسطینی عوام اپنے حق خود ارادیت کو آزادانہ طور پر استعمال کر سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن معاہدے کے اقدام کا خیر مقدم کیا گیا اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جامع اور دیرپا معاہدے کی حمایت کی گئی۔ سعودی کابینہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی مملکت فلسطینی عوام کے ساتھ ہے اور خطے میں امن کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا یقینی بنایا جائے تاکہ فلسطینی عوام اپنے حق خود ارادیت کو آزادانہ طور پر استعمال کر سکیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل بلا رکاوٹ ہونی چاہیے تاکہ متاثرین تک فوری طور پر خوراک، پانی اور ادویات پہنچ سکیں۔سعودی کابینہ نے واضح کیا کہ مملکت خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تمام عالمی اور علاقائی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔ سعودی حکام نے عالمی برادری پرزور دیا کہ وہ فلسطین میں مستقل حل نکالنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سعودی کابینہ فلسطینی عوام کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔