دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موٹروے کو ایک محفوظ، تیز اور آرام دہ سفر کی علامت سمجھا جاتا ہے، ملک کے مختلف شہروں کو آپس میں جوڑنے والی یہ سڑکیں نہ صرف وقت کی بچت کا ذریعہ ہیں بلکہ ٹریفک کے دباؤ سے بچنے کا مؤثر حل بھی فراہم کرتی ہیں۔

تاہم، جہاں موٹروے کے سفر کی سہولت کو سراہا جاتا ہے، وہیں اس پر عائد بھاری ٹول ٹیکس عوامی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

روزانہ موٹروے کے ذریعے سفر کرنے والی گاڑیوں کی تعداد اور سالانہ جمع ہونے والے ٹول ٹیکس سے متعلق سوال کے جواب میں وزارت مواصلات نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد لاہور موٹروے یعنی ایم-2 پر روزانہ اوسطاً ایک لاکھ 30 ہزار گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔

وزارت مواصلات کی دستاویز کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران موٹرویز سے ٹول ٹیکس کی مد میں 29 ارب 99 کروڑ روپے جمع کیے گئے جبکہ ہائی ویز سے 34 ارب 42 کروڑ روپے جمع کیے گئے۔

مالی سال 2023-24 کے دوران موٹرویز سے ٹول ٹیکس کی مد میں 14 ارب 30 کروڑ روپے جمع کیے گئے جبکہ ہائی ویز سے 17 ارب 17 کروڑ روپے جمع کیے گئے۔

ٹول ٹیکس میں اضافے کے باعث ایک سال میں ٹول ٹیکس کی وصولیوں میں 101 فیصد یعنی 32 ارب 35 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں:

دستاویز کے مطابق پنجاب میں مالی سال 2024-25 کے دوران 19 ارب 58 کروڑ کا ٹول ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ سال 2023-24 میں 10 ارب 66 کروڑ روپے ٹول ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔

سندھ میں مالی سال 2024-25 کے دوران 11 ارب 37 کروڑ کا ٹول ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ سال 2023-24 میں 5 ارب 50 کروڑ روپے ٹول ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں مالی سال 2024-25 کے دوران 2 ارب 38 کروڑ کا ٹول ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ سال 2023-24 میں 1 ارب 24 کروڑ روپے ٹول ٹیکس وصول کیا گیا تھا،

مزید پڑھیں:

دوسری جانب بلوچستان میں مالی سال 2024-25 کے دوران 1 ارب 8 کروڑ کا ٹول ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ سال 2023-24 میں 59 کروڑ روپے ٹول ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔

وزیر مواصلات نے بتایا کہ ٹولنگ پالیسی کے مطابق بعض سرکاری اور ایمرجنسی گاڑیوں کے سوا کسی گاڑی کو ٹول ٹیکس سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

ٹول ٹیکس سے استثنیٰ کے حامل اداروں میں نیشنل اور پروونشل ہائی وے اور موٹروے پولیس، فائر بریگیڈ، ایمبولینس سمیت پاک فوج کی ’براڈ ایرو‘ نمبر پلیٹس والی گاڑیاں اور سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے جھنڈے یا نشان والی گاڑیاں شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمبولینس براڈ ایرو ٹول ٹیکس ٹولنگ پالیسی سپریم کورٹ فوج موٹروے پولیس ہائیکورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمبولینس براڈ ایرو ٹول ٹیکس ٹولنگ پالیسی سپریم کورٹ فوج موٹروے پولیس ہائیکورٹ میں مالی سال 2024 25 کے دوران کروڑ روپے جمع کیے گئے

پڑھیں:

حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

 حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف