حکومت بلوچستان نے صوبے کی سرکاری جامعات کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے 80 کروڑ 19 لاکھ 54 ہزار 226 روپے کی رقم جاری کر دی۔محکمہ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق یہ گرانٹ پبلک سیکٹر یونیورسٹیز الاونس کے تحت فراہم کی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے لیے 27 کروڑ 29 لاکھ 79 ہزار روپے، بیوٹمز کے لیے 17 کروڑ ایک لاکھ 99 ہزار روپے اور بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے لیے 10 کروڑ 17 لاکھ روپے کی گرانٹ جاری کی گئی ہے۔اسی طرح لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگری کلچر اینڈ میرین سائنسز کے لیے 7 کروڑ 88 لاکھ 21 ہزار 774 روپے، یونیورسٹی آف تربت کے لیے 4 کروڑ 10 لاکھ 98 ہزار 438 روپے اور یونیورسٹی آف لورالائی کے لیے 2 کروڑ 98 لاکھ 9 ہزار 978 روپے کی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔مزید برآں میر چاکر رند یونیورسٹی سبی کو ایک کروڑ 37 لاکھ 2 ہزار 725 روپے، یونیورسٹی آف گوادر کو ایک کروڑ 23 لاکھ 91 ہزار 526 روپے، بولان یونیورسٹی آف ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل سائنسز کو ایک کروڑ 15 لاکھ 52 ہزار 378 روپے جبکہ یونیورسٹی آف مکران پنجگور کو 91 لاکھ 90 ہزار 62 روپے کی گرانٹ جاری کی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی آف بلوچستان کے خاران کیمپس کو بھی 34 لاکھ روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: یونیورسٹی آف کی گئی ہے روپے کی کے لیے

پڑھیں:

مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

ویب ڈیسک :پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نےآئندہ مالی سال کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار  روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی۔

  اس حوالے سے پائیڈ نے شواہد پر مبنی فریم ورک تجویز کردیا جس کے تحت  مالی سال 2026-27 کے لیے قومی سطح پر کم از کم اجرت 45000 روپے ماہانہ مقرر  کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

 پائیڈ نے موجودہ کم از کم اجرت 40000 روپے کے مقابلے آئندہ مالی سال کیلئے  12.5 فیصد اضافہ  تجویز کیا ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم اجرت کی پالیسی اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ گھریلو قوتِ خرید، غربت کے خدشات ، غیر رسمی روزگار، مقامی طلب، پیداواری ترغیبات اور مجموعی سماجی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ 

 یہ بھی پڑھیں:نئی کاواساکی موٹرسائیکل نےدھوم مچا دی

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل عرصے میں اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی اور اپریل 2026 میں سال بہ سال افراطِ زر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان