حکومت بلوچستان نے صوبے کی سرکاری جامعات کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے 80 کروڑ 19 لاکھ 54 ہزار 226 روپے کی رقم جاری کر دی۔محکمہ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق یہ گرانٹ پبلک سیکٹر یونیورسٹیز الاونس کے تحت فراہم کی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے لیے 27 کروڑ 29 لاکھ 79 ہزار روپے، بیوٹمز کے لیے 17 کروڑ ایک لاکھ 99 ہزار روپے اور بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے لیے 10 کروڑ 17 لاکھ روپے کی گرانٹ جاری کی گئی ہے۔اسی طرح لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگری کلچر اینڈ میرین سائنسز کے لیے 7 کروڑ 88 لاکھ 21 ہزار 774 روپے، یونیورسٹی آف تربت کے لیے 4 کروڑ 10 لاکھ 98 ہزار 438 روپے اور یونیورسٹی آف لورالائی کے لیے 2 کروڑ 98 لاکھ 9 ہزار 978 روپے کی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔مزید برآں میر چاکر رند یونیورسٹی سبی کو ایک کروڑ 37 لاکھ 2 ہزار 725 روپے، یونیورسٹی آف گوادر کو ایک کروڑ 23 لاکھ 91 ہزار 526 روپے، بولان یونیورسٹی آف ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل سائنسز کو ایک کروڑ 15 لاکھ 52 ہزار 378 روپے جبکہ یونیورسٹی آف مکران پنجگور کو 91 لاکھ 90 ہزار 62 روپے کی گرانٹ جاری کی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی آف بلوچستان کے خاران کیمپس کو بھی 34 لاکھ روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: یونیورسٹی آف کی گئی ہے روپے کی کے لیے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود