ترسیلی نظام بہتر بنایا جا رہا، نیٹ میٹرنگ سے 7 ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو رہی ہے: وزیر توانائی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے جرمن ترقیاتی ادارے (GIZ) کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت مسٹر آرنو کرچوف، ڈپٹی ہیڈ آف مشن، کر رہے تھے۔ ملاقات میں توانائی کے شعبے میں جاری تعاون، ڈی کاربونیزیشن اینڈ ڈجیٹایزیشن آف پاور ڈسٹریبیوشن نیٹورک پروگرام اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔جرمن وفد نے بتایا کہ7 ملین یورو گرانٹ کا یہ پروگرام وزارت توانائی کے لیے تکنیکی معاونت کے طور پر 2024 میں شروع ہوا اور 2026 کے آخر تک جاری رہے گا۔ اس پروگرام کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنا، پائلٹ منصوبے شروع کرنا اور توانائی کے شعبے کے افسران کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔ اس کے چار بنیادی اجزاء میں ریگولیٹری معاونت، قابلِ تجدید توانائی کا انضمام، پائلٹ پروجیکٹ کا نفاذ اور علم و تجربات کا تبادلہ شامل ہیں۔جرمن وفد نے مزید کہا کہ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم (BESS) کے لیے 2.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: توانائی کے شعبے وزیر توانائی توانائی کا
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔