اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے جرمن ترقیاتی ادارے (GIZ) کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت مسٹر آرنو کرچوف، ڈپٹی ہیڈ آف مشن، کر رہے تھے۔ ملاقات میں توانائی کے شعبے میں جاری تعاون، ڈی کاربونیزیشن اینڈ ڈجیٹایزیشن آف پاور ڈسٹریبیوشن نیٹورک پروگرام اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔جرمن وفد نے بتایا کہ7 ملین یورو گرانٹ کا یہ پروگرام وزارت توانائی کے لیے تکنیکی معاونت کے طور پر 2024 میں شروع ہوا اور 2026 کے آخر تک جاری رہے گا۔ اس پروگرام کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنا، پائلٹ منصوبے شروع کرنا اور توانائی کے شعبے کے افسران کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔ اس کے چار بنیادی اجزاء میں ریگولیٹری معاونت، قابلِ تجدید توانائی کا انضمام، پائلٹ پروجیکٹ کا نفاذ اور علم و تجربات کا تبادلہ شامل ہیں۔جرمن وفد نے مزید کہا کہ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم (BESS) کے لیے 2.

5 ملین یورو کی اضافی گرانٹ بھی منظور ہو چکی ہے، جس کے تحت وزارت توانائی کے تعاون سے پائلٹ پروجیکٹ اور بزنس ماڈل تیار کیا جائے گا۔ پیسکو اور لیسکو میں دو فیڈرز کو ڈیجیٹائز کرنے کے پائلٹ منصوبے پر بھی کام جاری ہیاس موقع پر وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے ترسیلی نظام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے، نیٹ میٹرنگ اس وقت 7ہزار میگاواٹ نیشنل گرڈ میں شامل کر رہی ہے۔ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں موثر اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، توانائی کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنا رہے ہیں۔ ڈیجیٹائزیشن سے نظام میں شفافیت آئے گی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ملک میں ماحول دوست توانائی کا فروغ ہماری ترجیح ہے۔ گرین اور پائیدار توانائی کا فروغ پاکستان کے لئے وقت کا تقاضا ہے، توانائی کے شعبے میں جامع اصلاحات کا پیکج تیار کیا گیا ہے۔ اب کوئی ڈسٹری بیوشن کمپنی حکومت سے بجلی نہیں خریدے گی، انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھایا جا رہا ہے۔ انرجی مکس میں پن بجلی کا بڑا کردار ہے۔ گردشی قرضے پر قابو پانے کے حوالے سے ٹھوس پیشرفت کی گئی ہے۔ جنوری سے سی ٹی بی سی ایم کے نظام پر شفٹ کر دیں گے، گلوبل کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد بھی نہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: توانائی کے شعبے وزیر توانائی توانائی کا

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی