ترسیلی نظام بہتر بنایا جا رہا، نیٹ میٹرنگ سے 7 ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو رہی ہے: وزیر توانائی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے جرمن ترقیاتی ادارے (GIZ) کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت مسٹر آرنو کرچوف، ڈپٹی ہیڈ آف مشن، کر رہے تھے۔ ملاقات میں توانائی کے شعبے میں جاری تعاون، ڈی کاربونیزیشن اینڈ ڈجیٹایزیشن آف پاور ڈسٹریبیوشن نیٹورک پروگرام اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔جرمن وفد نے بتایا کہ7 ملین یورو گرانٹ کا یہ پروگرام وزارت توانائی کے لیے تکنیکی معاونت کے طور پر 2024 میں شروع ہوا اور 2026 کے آخر تک جاری رہے گا۔ اس پروگرام کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنا، پائلٹ منصوبے شروع کرنا اور توانائی کے شعبے کے افسران کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔ اس کے چار بنیادی اجزاء میں ریگولیٹری معاونت، قابلِ تجدید توانائی کا انضمام، پائلٹ پروجیکٹ کا نفاذ اور علم و تجربات کا تبادلہ شامل ہیں۔جرمن وفد نے مزید کہا کہ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم (BESS) کے لیے 2.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: توانائی کے شعبے وزیر توانائی توانائی کا
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔