مسابقی کمیشن نے پی ٹی سی ایل کو ٹیلی نار پاکستان کے حصول کی اجازت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے پی ٹی سی ایل کو ٹیلی نار پاکستان کے حصول کی اجازت دے دی۔
ترجمان پی ٹی سی ایل کا کہنا ہے کہ پی ٹی سی ایل اپنے ریگولیٹری جائزے کے دوسرے مرحلے کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے اور ٹیلی نار پاکستان کے حصول کی منظوری دینے پر مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) کا شکر گزار ہے۔
ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پی ٹی سی ایل کے ردعمل میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کے مستقبل اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کیلئے کمیشن کی جامع کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں علاوہ ازیں ہم اپنے صارفین، شراکت داروں اور ملکی ٹیلی کام شعبے سے وابستہ تمام افراد کے بھی تہہ دل سے شکرگزار ہیں جو اس تاریخی فیصلے کے منتظر تھے۔
ترجمان نے کہا کہ پی ٹی سی ایل نے اس پورے جائزہ عمل کے دوران کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ٹیلی نار پاکستان کے حصول کو تمام ریگولیٹری اداروں کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا اور ملک کے تمام قابلِ اطلاق قوانین کی مکمل تعمیل کی جائے گی۔
پی ٹی سی ایل کا کہنا ہے کہ یہ انضمام پاکستان کی ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے ایک اہم سنگ ِ میل ہے، جو پی ٹی ایم ایل (یوفون) اور ٹیلی نار کی مشترکہ قوتوں کو یکجا کرکے صارفین کو بہترین ٹیلی کام خدمات، معیاری نیٹ ورک کوالٹی، وسیع کوریج اور جدید ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرے گا۔
ترجمان نے کہا کہ اس انضمام سے شعبے میں مزید مستعدی، مضبوط انفراسٹرکچر اور بہتر مسابقتی ماحول کو فروغ ملے گا۔ مزید برآں دونوں اداروں کے انضمام سے وجود میں آنے والا نیا ادارہ ملک گیر کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنانے، اختراع کو فروغ دینے اور حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی سی ایل ٹیلی کام
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔