آپریشن سندور پر فلم بنتی اس سے پہلے ہی پاکستان نے پہلگام فالس فلیگ پر ڈرامہ بنادیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے حالیہ دنوں بھارتی حکومت کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو موضوع بناتے ہوئے ٹیلی فلم ’بے گناہ‘ کا ٹیزر جاری کر دیا ہے، جسے سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
ٹیلی فلم ’بے گناہ‘ کے ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح بھارت نے اپنے ہی سیاحوں کو ایک سازش کے تحت نشانہ بنایا اور اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر کے حالات کو جنگ کی دہلیز تک پہنچایا۔ فلم کا مقصد عالمی برادری کے سامنے حقائق کو اجاگر کرنا اور فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت کو بے نقاب کرنا ہے۔
سوشل میڈیا پر شائقین کی جانب سے ٹیزر کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ مونس نامی صارف نے کہا کہ بالی ووڈ آپریشن سندور پر کوئی فلم بناتا اس سے پہلے ہی پاکستان نے پہلگام فالس فلیگ واقعے پر ڈرامہ بنادیا۔
بالی وڈ آپریشن سندور پر کوئی فلم بناتا اس سے پہلے ہی پاکستان نے پہلگام فالس فلیگ واقعے پر ڈرامہ بنادیا۔ pic.
— Moonis S. (@RxCommerceMogul) September 30, 2025
ایک صارف نے کہا کہ انڈیا کی اصلیت دکھانے کا یہ واحد راستہ تھا۔ ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا یہ فلم خاص طور پر انڈیا کے لیے بنائی گئی ہے۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ وہ یہ فلم ضرور دیکھیں گے جبکہ ایک صارف کا کہنا تھا کہ آخرکار پاکستان نے بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دینا شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’دہشتگردوں سے پاکستانی چاکلیٹ ملی‘، پہلگام حملے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کیلئے بھارتی وزیر داخلہ کی عجیب منطق
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ ٹیلی فلم نہ صرف ملکی ناظرین بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کرے گی
ٹیلی فلم ’بے گناہ‘ کی ہدایتکاری معروف اداکار و ہدایتکار شمعون عباسی نے کی ہے، جبکہ اس کی کہانی علی معین اور عرفان چانڈیو نے تحریر کی ہے۔ اداکاروں میں شمعون عباسی، نازش جہانگیر، کامران جیلانی، حسن نیازی، حماد فاروقی اور سلیم شیخ شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن سندور بالی ووڈ بے گناہ پہلگام ٹیلی فلم مودی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ بے گناہ پہلگام ٹیلی فلم پہلگام فالس فلیگ سوشل میڈیا پاکستان نے ٹیلی فلم بے گناہ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔