افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش، پاکستان کے لیے موقع، افغانوں کے لیے مصیبت
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
افغان طالبان حکومت کو سوشل میڈیا پر تنقید نے فرسٹریٹ کر رکھا ہے۔ ستمبر میں بلخ ، قندھار ، ہلمند ، اروزگان اور نمروز صوبوں میں انٹرنیٹ کی بندش کا آغاز کیا گیا۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر غیٖر اخلاقی سرگرمیاں بتایا گیا تھا۔ یہ ابتدائی بندش ہائی اسپیڈ انٹر نیٹ کی بندش تک محدود تھی، موبائل فون کام کر رہے تھے اور سلو سپیڈ ڈیٹا بھی دستیاب تھا۔
ستمبر سے فائبر آپٹک کو بند کیا گیا ہے۔ جس سے انٹرنیٹ ٹریفک 60 فیصد گر گئی ہے۔ کنیکٹیوٹی گر کر 14 فیصد تک رہ گئی ہے۔ اک طرح سے کمیونیکیشن شٹ ڈاؤن کر دیا گیا ہے جو کب تک جاری رہے گا اس کا کسی کو اندازہ نہیں۔ اس کے نتیجے میں پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔ بینکنگ ٹرانزیکشن متاثر ہو گئی ہے، ریمیٹینس رک گئی ہے اور تجارتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ افغانستان میں حوالہ بزنس جس پر ادائیگیوں کا زیادہ تر انحصار ہے وہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بڑی آبادی کو چھوٹی سوچ کے ساتھ ترقی نہیں دی جا سکتی
افغانستان کی 4 کروڑ آبادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ کٹ گیا ہے۔ خواتین جو آن لائین بزنس یا تعلیم حاصل کر رہی تھیں وہ سلسلہ بھی رک گیا ہے۔ افغانستان میں جاری امدادی سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس ایک اقدام سے افغانستان دنیا سے کٹ جانے کے علاوہ کئی دہائی پیچھے چلا گیا ہے۔
جرمنی کی وزارت داخلہ کا ایک وفد کابل کا دورہ کرنے والا ہے۔ یہ دورہ اس سلسلے کی کڑی ہے کہ جرمنی ان افغانوں کو واپس افغانستان بھجوانا چاہتا ہے جو جرائم میں ملوث ہیں۔ اس حوالے سے افغان طالبان حکومت سے یہ گارنٹی لی جانی ہے کہ ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔ پاکستان اور ایران بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو مسلسل واپس بھجوا رہے ہیں۔
ان مہاجرین کو سہولیات فراہم کرنا ان کی دوبارہ آباد کاری افغان طالبان کی حکومت کے لیے کوئی معمولی چیلنج نہیں ہے۔ اس حکومت کو روس کے علاوہ کسی نے تسلیم نہیں کیا ہوا۔ یہ ادائیگیوں کے عالمی نظام سے باہر ہے ۔ افغانستان کے مالیاتی اثاثے امریکا نے منجمد کر رکھے ہیں۔ ایسے میں کئی ملین افغانوں کو واپس قبول کرنا ایک مشکل کام ہے۔
پاکستان اور ایران سے واپس جانے والے افغانستان سے کہیں بہتر سہولیات زندگی کے عادی ہیں۔ پاکستان میں رہ کر واپس جانے والے افغان سیاست، احتجاج کے قسم ہا قسم طریقوں سے واقف ہیں اور حکومت کو دباؤ میں لانا بھی جانتے ہیں۔ ایسے میں جب ان کو حقیقی مسائل کا سامنا ہو گا تو احتجاج فطری ہے اور اس کو ہینڈل کرنا کسی کے بھی بس میں نہیں ہو گا۔
مزید پڑھیے: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، لڑائیوں کا خیال بھی شاید اب نہ آئے
افغانستان سے جو میڈیا رپورٹس آ رہی ہیں وہ صورتحال کی سنگینی ظاہر کرتی ہیں۔ افغان انٹیلیجنس کے ذرائع سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے انٹیلجنس ڈپارٹمنٹ کی ایک اسیسمنٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سخت گیر انداز حکومت، لڑکیوں کی تعلیم اور کام پر پابندی کی وجہ سے احتجاج پھوٹ سکتا ہے۔
افغان انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر داخلہ سراج حقانی نے قندھار کے اجلاس میں انٹرنیٹ بندش کی شدید مخالفت کی ہے اور ان کی مخالفت بے نتیجہ رہی ہے۔ اہم افغان وزرا عوامی اجتماعات میں سخت گیر پالیسیوں کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان میں ملا یعقوب، سراج حقانی جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ جو لوگ اعلانیہ مخالفت نہیں کرتے وہ اہم میٹنگ میں اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔ یہ اختلاف اب تک مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
انٹرنیٹ کی اس بندش کا ایک اور اینگل بھی ہے، اگر یہ بندش جاری رہتی ہے تو اس کا افغانستان میں موجود مسلح تنظیموں کو بھی نقصان ہو گا۔ ان کا کمیونیکیشن نیٹ ورک بری طرح متاثر ہو گا۔ سوشل میڈیا پر ان کی پراپیگینڈا سرگرمیاں بھی کم ہو جائیں گی۔ یہ ایسے وقت میں ہو گا جب ایک طرف ان گروپوں کے خلاف پاکستانی سیکیورٹی فورسز آپریشن کر رہی ہیں اور دوسری جانب یہ مسلح گروپ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں۔
افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش کی ٹائمنگ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے اعلان سے بھی جا ملی ہے۔ ٹرمپ افغانستان سے بگرام بیس واپسی کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک غیر سنجیدہ مطالبہ لگتا ہے۔ اس کے باوجود افغان طالبان نے اپنے حمایتی فائٹر، کمانڈر اور عہدیداروں کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس مٹانے شروع کر رکھے ہیں۔ بائیو میٹرک سسٹم سے طالبان عہدیداروں کا ڈیٹا ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: چھوٹی، بڑی عینک اور پاکستان بطور ریجنل پاور
افغانستان میں موجود شدت پسند مسلح گروپ افغان طالبان کی پالیسیوں کو پسند نہیں کرتے۔ انٹرنیٹ کی بندش ان کے ردعمل کو کنٹرول کرنے کی بھی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ یہ بندش اگر لمبی چلی تو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے لیے بھی ایک موقع فراہم کرے گی کہ وہ دہشتگردی کے روکنے کے لیے مؤثر کارروائیاں کرے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔
افغان طالبان افغانستان افغانستان میں انٹرنیٹ پر پابندی انٹرنیٹ بندش سوشل میڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان افغانستان افغانستان میں انٹرنیٹ پر پابندی انٹرنیٹ بندش سوشل میڈیا انٹرنیٹ کی بندش افغانستان میں افغان طالبان میں انٹرنیٹ سوشل میڈیا کے لیے ہے اور گئی ہے گیا ہے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز