پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع دستیاب ہیں، قیصرشیخ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں اینٹی منی اور ریئر ارتھ منرلز میں بڑی تجارتی صلاحیت موجود ہے۔ وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے امریکی کمپنی نووا منرلز کی ٹیم سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وفاقی وزیرنے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع دستیاب ہیں، پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں وسیع صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے اضافے کیلیے کوشاں ہے، بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاری کیلیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا اور سرمایہ کاری کے منصوبے مزید غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں سرمایہ کاری نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔