اسنیپ چیٹ ’فری لنچ‘ ختم: یادگار تصاویر، ویڈیوز نہیں گنوانی تو پیسے دیں!
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
میسیجنگ ایپ اسنیپ چیٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب صارفین سے اپنی پرانی تصاویر اور ویڈیوز محفوظ رکھنے کے لیے فیس وصول کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
یہ اقدام اس وقت کیا جا رہا ہے جب لاکھوں صارفین نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنی یادگار پوسٹس کو پلیٹ فارم کی میموریز والے فیچر میں محفوظ کیا ہے۔
اسنیپ چیٹ نے سنہ 2016 میں میموریز فیچر متعارف کروایا تھا جو صارفین کو اپنی عارضی پوسٹس کو مستقل طور پر محفوظ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
تاہم نئی پالیسی کے تحت اب وہ صارفین جن کے میموریز ڈیٹا کا حجم 5 گیگا بائٹ (جی بی) سے تجاوز کر جائے گا انہیں اپنی تصاویر و ویڈیوز محفوظ رکھنے کے لیے فیس ادا کرنی ہو گی۔
ادائیگی کی تفصیلات اور ردعملکمپنی کے مطابق یہ تبدیلی مرحلہ وار پوری دنیا میں نافذ کی جائے گی۔ ابتدائی طور پر جن صارفین کا ڈیٹا 5 جی بی سے زیادہ ہو گا انہیں 100 جی بی اسٹوریج پلان پر اپ گریڈ کرنے کی تجویز دی جائے گی جس کی قیمت ماہانہ 1.
مزید اسٹوریج کے لیے اسنیپ چیٹ پلس اور اسنیپ چیٹ پریمییئم جیسی مہنگی سبسکرپشنز بھی متعارف کروائی جا رہی ہیں۔
اداائیگی نہ کرنے والوں کے پاس کتنا وقت ہے؟کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایسے صارفین کو 12 ماہ کی عارضی مفت اسٹوریج فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنا مواد ڈاؤن لوڈ کر کے محفوظ کر سکیں۔
مزید پڑھیے: اسنیپ چیٹ کا اہم فیچر، صارف بحفاظت گھر پہنچنے کی اطلاع دوستوں کو دے سکے گا
تاہم اس اعلان پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے اس اقدام کو لالچ پر مبنی اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے کیونکہ وہ برسوں سے بغیر کسی فیس کے اپنی یادگار تصاویر اور ویڈیوز محفوظ کرتے آ رہے تھے۔
صارفین کتنی کھرب تصاویر و ویڈیوز محفوظ کرچکے؟اسنیپ چیٹ نے تسلیم کیا ہے کہ کسی مفت سروس کو ادائیگی پر منتقل کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن اس کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی میموریز کو بہتر بنانے اور پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
کمپنی کے مطابق اب تک صارفین ایک ٹریلین سے زائد تصاویر و ویڈیوز میموریز میں محفوظ کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹس کے بچوں سے غیر مناسب رابطے، 7 کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع
سوشل میڈیا کے ماہر ڈیو بینوی کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ناگزیر تھی۔ ان کے بقول ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہم پوسٹ کم کرتے ہیں مگر یادیں زیادہ محفوظ کرتے ہیں اس لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسٹوریج کے لیے ادائیگی کا عمل ایک قدرتی پیشرفت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسنیپ چیٹ اسنیپ چیٹ پر تصاویر و ویڈیوز اسنیپ چیٹ چارجز اسنیپ چیٹ فری میموریز ختم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسنیپ چیٹ اسنیپ چیٹ فری میموریز ختم تصاویر و ویڈیوز ویڈیوز محفوظ محفوظ کر کے لیے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔