سورا 2 کی لانچنگ: اوپن اے آئی کا یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو پیچھے چھوڑنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
مصنوعی ذہانت کی دنیا کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اپنی نئی آڈیو اور ویڈیو تخلیق کرنے والی ٹیکنالوجی ’سورا 2 متعارف کرا دی جو حقیقت سے قریب تر مناظر تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانتوں کے بیچ شطرنج ٹورنامنٹ: اوپن اے آئی نے فائنل میں گروگ کو شکست دے کر مقابلہ جیت لیا
کمپنی کے مطابق، سورا (Sora 2) صرف ویڈیو کو فزکس کے اصولوں کے مطابق بناتا ہے بلکہ اس کے ساتھ جڑی ایک نئی سوشل میڈیا ایپ بھی متعارف کروائی گئی ہے جس میں صارفین ٹک ٹاک کی طرز پر اے آئی ویڈیوز دیکھ اور شیئر کر سکتے ہیں۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ سورا 2 کا ماڈل ان ویڈیوز میں زیادہ حقیقت پسندی لاتا ہے جہاں اشیا اور حرکات کو فطری انداز میں دکھایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر باسکٹ بال کی گیند دیوار سے ٹکرا کر واپس آتی ہے بجائے اس کے کہ اچانک ہُوپ (جس جالی لگے رِنگ میں گیند پھینکی جاتی ہے) میں ظاہر ہو جائے۔ ڈیمو ویڈیوز میں بیچ والی بال، اسکیٹ بورڈنگ اور غوطہ خوری جیسے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
ایپ میں ایک نیا فیچر ’کیمیو‘ متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی ویڈیوز میں خود کو شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے صرف ایک بار ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ سے شناختی تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ صارفین یہ اجازت بھی دے سکتے ہیں کہ ان کے دوست ان کی شکل و آواز کو ملٹی پرسن ویڈیوز میں استعمال کریں۔
فی الحال یہ ایپ امریکا اور کینیڈا میں صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب ہے اور صرف دعوت نامے پر چل رہی ہے تاہم جلد دیگر علاقوں میں توسیع کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔چیٹ جی پی ٹی پرو صارفین سورا 2 ماڈل کی ابتدائی خصوصیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں ’اسٹڈی موڈ‘ متعارف کرا دیا
سورا ایپ میں ایک الگورتھم پر مبنی فیڈ بھی دی گئی ہے جہاں ویڈیوز انسٹاگرام ریلز یا ٹک ٹاک کی طرح دکھائی جاتی ہیں۔ ویڈیوز کی ذاتی نوعیت کی تجاویز کے لیے صارف کی سرگرمی، مقام، چیٹ جی پی ٹی کی ہسٹری اور دیگر عوامل کا استعمال کیا جاتا ہے جسے صارف کسی بھی وقت بند کر سکتا ہے۔
ایپ میں پیرنٹل کنٹرولز بھی دیے گئے ہیں جن کی مدد سے والدین ویڈیوز کی ذاتی نوعیت، میسجنگ اور اسکرولنگ پر پابندیاں لگا سکتے ہیں۔
کیا یہ سہولت مفت ہے؟ایپ کی ابتدائی ریلیز مفت ہے تاہم مستقبل میں ویڈیو جنریشن کی کچھ سہولیات پر ادائیگی کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایپل کی چیٹ جی پی ٹی طرز کی ایپ متعارف، نیکسٹ جنریشن ’سری‘ لانچ کرنے کی تیاری
ماہرین نے البتہ خبردار کیا ہے کہ کیمیو جیسا فیچر غلط استعمال کے خدشات بھی بڑھا سکتا ہے خاص طور پر بغیر اجازت کے افراد کی شکل و آواز پر مبنی جعلی یا گمراہ کن اے آئی ویڈیوز بنانے کے امکانات پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپن اے آئی ٹک ٹاک سورا 2 ویڈیوز یو ٹیوب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی ٹک ٹاک ویڈیوز یو ٹیوب اوپن اے ا ئی چیٹ جی پی ٹی ویڈیوز میں سکتے ہیں ٹک ٹاک کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔