data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگلا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائے گا، بجٹ وزارت خزانہ کے تحت بننے والا ٹیکس پالیسی بورڈ بنائے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔ رکن کمیٹی نے کہا کہ وزیر خزانہ صاحب ٹیکس کلکشن کلاشنکوف سے نہیں ہوتی، تاجروں کے ساتھ تاجروں والا برتاؤ کریں، طالبان یا دہشت گردوں کی طرح برتاؤ نہ کریں۔سینیٹر افنان نے کہا کہ ایف بی آر سیاسی بنیادوں پر نوٹس جاری کرکے تنگ کررہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اب پالیسی کو ایف بی آر سے نکال دیا گیا ہے، اب ایف بی آر صرف ٹیکس کلکشن پر فوکس کرے گا،پہلے جون میں بجٹ پیش ہونا ہوتا تھا اور ایک مہینہ پہلے دربار لگا کر بیٹھ جاتے تھے، ایک مہینے میں بجٹ سازی پر کیا مشاورت ہوسکتی ہے، اب یہ پالیسی بورڈ پورا سال بجٹ سازی کے بارے میں مشاورت کرے گا، ٹیکس پالیسی بورڈ کا آفس تکمیلی مراحل میں ہے، اس سے اوپر ایک ایڈوائزری بورڈ قائم کریں گے، اس ایڈوائزری بورڈ میں ماہرین بھی ہوں گے نجی شعبے سے بھی لوگ لیے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ایڈوائزری بورڈ اگرچہ بائنڈنگ نہیں ہوگا مگر مشاورت ضرور ہوسکے گی، سگریٹ ،بیوریج، شوگر سمیت جو بھی شعبہ ہو جہاں بھی کارروائی ہورہی ہے، اسے ہم نے خفیہ نہیں رکھنا، اگر کہیں غلط ہورہا ہے تو اس کی نشاندہی کریں، ہم اس کو دیکھیں گے۔رکن کمیٹی سینیٹر دلاور نے کہا کہ میں خود تمباکو کا زمیندار ہوں، اس سال تین سو روپے کلو میں تمباکو خریدنے کو کوئی تیار نہیں ہے، اس مرتبہ تمباکو کی بمپر فصل ہوئی ہے مگر خریدنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں،پیشگی اقدامات اور اسٹرکچرل بینچ مارکس پر بات چیت ہورہی ہے۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ ا ایف بی ا ر ر نہیں

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ