الزائمر اور پارکنسنز کے علاج میں ’آسٹروکیپسولز‘ نئی امید بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دماغی بیماریوں، خصوصاً الزائمر اور پارکنسنز، کے علاج کے لیے سائنس دان مسلسل نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت کے مطابق ماہرین نے ایک انوکھا سسٹم تیار کیا ہے جسے ’’آسٹروکیپسولز‘‘ کہا جا رہا ہے۔ یہ چھوٹے مگر مؤثر کیپسول دماغ کے ان مخصوص حصوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جہاں سوزش ان بیماریوں کو جنم دیتی ہے یا انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
جرنل بائیومٹیریلز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ کیپسول ایک محفوظ جیل سے تیار کیے گئے ہیں جن کے اندر دماغ کے خاص خلیے، ’’آسٹروسائٹس‘‘، موجود ہوتے ہیں۔ یہ خلیے انسدادِ سوزش پروٹینز فراہم کرتے ہیں جنہیں بیماری کے شکار حصوں تک پہنچا کر دماغی سوزش کو کم کیا جاتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ میں پیدا ہونے والی سوزش الزائمر اور پارکنسنز جیسی مہلک بیماریوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے ان بیماریوں کے علاج کے لیے سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے کہ براہِ راست دماغ کے متاثرہ حصوں تک علاج پہنچایا جائے۔ ’’آسٹروکیپسولز‘‘ اسی مقصد کو پورا کرتے ہیں۔
خاص طور پر انسدادِ سوزش پروٹین IL-1Ra سے بھرے یہ کیپسولز جب دماغ تک پہنچے تو انہوں نے سوزش میں نمایاں کمی پیدا کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں دماغی امراض کے علاج میں ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ موجودہ ادویات اکثر دماغ کے حساس حصوں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتیں۔
اگر یہ ٹیکنالوجی عملی طور پر انسانوں میں کامیاب ثابت ہوئی تو لاکھوں مریضوں کو نئی امید مل سکتی ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو طویل عرصے سے الزائمر اور پارکنسنز جیسے جان لیوا مسائل سے دوچار ہیں۔
فی الحال یہ تحقیق تجرباتی مراحل میں ہے لیکن سائنس دانوں کو یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں ’’آسٹروکیپسولز‘‘ دماغی امراض کے علاج کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الزائمر اور پارکنسنز کے علاج دماغ کے حصوں تک
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔