یو این چیف کی برطانیہ میں یہودی عبادت گاہ پر دہشتگرد حملے کی کڑی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 02 اکتوبر 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ (سینیگاگ) پر دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کی ہے جس میں کم از کم دو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عبادت گاہیں مقدس مقامات ہیں جہاں لوگ سکون اور امن کی تلاش میں آتے ہیں۔
یہودیوں کے مقدس تہوار یوم کپور پر ان کی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا نہایت گھناؤنا فعل ہے۔سیکرٹری جنرل نے اس حملے سے متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ انہوں نے یہودی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
(جاری ہے)
ترجمان کے مطابق، سیکرٹری جنرل کو دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی یہود دشمنی پر شدید تشویش ہے اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نفرت و عدم برداشت کی ہر شکل کا فوری طور پر مقابلہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔
حملہ آور ہلاکاطلاعات کے مطابق، مانچسٹر کے شمالی علاقے ہیٹن پارک میں ایک شخص نے سینیگاگ میں موجود لوگوں پر چاقو سے حملہ کیا جس میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔
اس واقعے کی فوٹیج میں حملہ آور کو زمین پر گرے دیکھا جا سکتا ہے جسے پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔پولیس کے مطابق، اس واقعے کے سلسلے میں دو گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں یہودی عبادت گاہوں پر اضافی پولیس تعینات کی جائے گی۔
یوم کپور یہودی برادری کا مقدس ترین تہوار سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے یہودی عبادت گزار اس دن کا بیشتر حصہ سینیگاگ میں گزارتے ہیں جہاں دن کے آغاز اور اختتام پر خاص دعائیں پڑھی جاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سیکرٹری جنرل یہودی عبادت
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔