سربیا کے 800 سے زائد اسکولوں میں بم کی دھمکیاں، طلبہ و اساتذہ محفوظ مقام پر منتقل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلغراد: سربیا کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں 800 سے زائد اسکولوں کو بم دھماکے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد اسکولوں کو خالی کرا لیا گیا اور طلبہ و اساتذہ کو گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صبح 9 بج کر 30 منٹ تک ملک بھر کے 807 پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں بم نصب ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، ان اطلاعات کے بعد پولیس کے متعلقہ ریجنل ڈپارٹمنٹس، بشمول دارالحکومت بلغراد کی کرمنل اور ٹیکنیکل یونٹس، فوری طور پر حرکت میں آگئے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انتظامیہ نے تمام تعلیمی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دیں، طلبہ اور اسکول اسٹاف کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈز اور تفتیشی ٹیمیں عمارتوں کی چھان بین کر رہی ہیں۔
وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ ہائی ٹیک کرائم سروس کے افسران اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات کے اصل بھیجنے والے کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بار معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے، ملزم تک پہنچنے تک سکون سے نہیں بیٹھا جائے گا۔
خیال رہےکہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سربیا میں اس نوعیت کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، گزشتہ برس بھی مختلف عوامی مقامات اور اسکولوں کو بارہا دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئی تھیں، جن کی تحقیقات کے بعد انہیں جعلی قرار دیا گیا تھا۔
سربیا کے عوامی حلقوں میں ان دھمکیوں کے بعد شدید تشویش پائی جاتی ہے، والدین اپنے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے فکرمند ہیں جبکہ حکومت نے شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ