پاکستان کی گلوبل صمود فلوٹیلا کی اسرائیل کے ہاتھوں روک تھام کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
پاکستان گلوبل صمود فلوٹیلا کی اسرائیل کے ہاتھوں روک تھام کی شدید مذمت کرتا ہے۔ یہ فلوٹیلا ایک اہم انسانی مشن ہے جو عالمی یکجہتی اور اخلاقی عزم کی علامت ہے۔ اسرائیلی اقدام بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 16 ستمبر 2025 کو پاکستان نے 15 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں فلوٹیلا کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: صدرِ مملکت کی ’صمود غزہ فلوٹیلا‘ پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت
پاکستانی شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور ان کی خیریت ہمارے لیے اولین ترجیح ہے۔ چونکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ہم خطے میں اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ پاکستانی شہریوں کی فوری رہائی اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان اپنے شہریوں کی فوری اور محفوظ واپسی کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ بھرپور رابطہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے اور ہر سطح پر ان کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان گلوبل صمود فلوٹیلا وزارت خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان گلوبل صمود فلوٹیلا
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔