اسرائیل صمود فلوٹیلا سے گرفتار افراد کیخلاف کیا کارروائی کرے گا؛ حکام نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
صمود فلوٹیلا کے قافلے میں 40 کشتیاں شامل ہیں جن میں دنیا بھر سے 500 سے زائد افراد سوار ہیں اور ان کی منزل غزہ میں محصور فلسطینیوں کو خوراک پہنچانا تھی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے ان کشتیوں کو غزہ پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا اور 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔
حراست میں لیے گئے افراد میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں جو بطور رضاکار کشتی میں سوار تھے۔ دیگر اسیروں میں معروف سماجی کارکن، وکلا اور خواتین بھی شامل ہیں۔
Already several vessels of the Hamas-Sumud flotilla have been safely stopped and their passengers are being transferred to an Israeli port.
Greta and her friends are safe and healthy. pic.twitter.com/PA1ezier9s — Israel Foreign Ministry (@IsraelMFA) October 1, 2025
اسرائیلی بحریہ کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود گلوبل صمود فلوٹیلا کی 30 کشتیاں اب بھی اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہیں اور اس وقت غزہ سے 85 کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گرفتار کیے گئے 200 سے زائد سماجی کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی حکومت کیا کرنے جا رہی ہے۔
اسرائیلی حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ انتباہ کے باوجود غزہ کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ان افراد کو حراست میں لے کر اسرائیل کی سرزمین پر لایا جائے گا۔
View this post on InstagramA post shared by Global Sumud Flotilla (@globalsumudflotilla)
حکام کے بقول اسرائیل میں ضابطے کی کارروائی کے بعد ان افراد کو ان کے اپنے اپنے ملک بھیج دیا جائے گا۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ کشتیوں کو روکنے اور گرفتاریوں کے عمل کے دوران فوجی نہایت نرمی سے پیش آٗئے اور کوئی غیر قانونی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ امداد کسی بین الاقوامی تنظیم کے ذریعے بھی بھیجی جا سکتی تھی۔ اس کے لیے یہ راستہ چننا ہمارے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
UPDATE – OCTOBER 2ND, 3:20 GMT+3
30 boats still sailing strong on their way to Gaza, just 46 nautical miles away, despite the incessant aggressions from the Israeli occupation navy. #BreakTheSiege #FreePalestine #SailToGaza #GlobalMovementToGaza #glob… https://t.co/5vQjn0u0iS
اسرائیلی حکام نے الزام عائد کیا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں سوار دانستہ یا غیر دانستہ طور پر حماس کی مدد کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کئی یورپی اور عرب ممالک کے کارکنوں کی مشترکہ کاوش ہے، جو اسرائیل کی غزہ پر عائد سخت ناکہ بندی توڑنے کے لیے عالمی سطح پر سرگرم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا حکام نے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں