وزیراعظم کی صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملےکی مذمت، زیر حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم شہباز شریف نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ اس فلوٹیلا میں *44 ممالک سے تعلق رکھنے والے 450 سے زائد امدادی کارکن شامل تھے جنہیں اسرائیلی فوج نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کارکنان کا واحد “جرم” یہ تھا کہ وہ غزہ کے بے بس اور مظلوم عوام کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہے تھے۔ وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور فلسطینی عوام تک امداد کی ترسیل بلا تعطل یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ امداد ہر صورت مستحقین تک پہنچنی چاہیے، اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بند کیا جائے اور فلسطین میں پائیدار امن کا قیام وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
ادھر ترکیہ نے بھی فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “دہشت گردی” قرار دیا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کی متعدد کشتیوں پر دھاوا بول کر قبضہ کر لیا تھا اور جہازوں میں سوار کارکنوں کو حراست میں لے کر اسرائیلی بندرگاہ منتقل کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔