اسحاق ڈار سے جرمن سفیر کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد(خبر نگار خصوصی)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جرمنی کی نئی مقررہ سفیر ایچ ای انا لیپل سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنمائو ں نے دوطرفہ سیاسی، تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات، موسمیاتی اقدامات، ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت، دفاع اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے سفیر ایچ ای انا لیپل کیلئے پاکستان میں کامیاب اور موثر خدمات کی خواہش بھی ظاہر کی۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے عزم کا مظہر ہے۔اسحاق ڈار نے ٹمپرڈ اور ضبط شدہ گاڑیوں سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور نیلامی کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے ٹیکنالوجی پر مبنی حل کو اپنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس کے دوران ایف بی آر کے حکام نے غیر کسٹم ادا شدہ گاڑیوں کے لیے تجویز کردہ آن لائن /ای نیلامی ماڈیول پر ایک تفصیلی پریذنٹیشن دی جس کا مقصد مذکورہ گاڑیوں کی نیلامی کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شفافیت، ایفیشنسی اور غیر جانبداری کو یقینی بنانا ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے ٹیکنالوجی پر مبنی حل کو اپنانے کے حکومتی عزم کی دوبارہ تائید کی جو شفافیت کو بڑھاتی ہیں اور قیمتی عوامی وسائل کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔