پیرس فیشن ویک میں ایشوریا رائے کا ہیروں سے جڑا ہوا لباس، قیمت کتنی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
بالی ووڈ کی نامور اداکارہ اور اسٹائل آئیکون ایشوریا رائے بچن نے پیرس فیشن ویک میں اپنی شاندار انٹری سے ایک بار پھر مداحوں کے دل جیت لیے ہیں۔ 51 سالہ اداکارہ، جو ایک عالمی بیوٹی برانڈ کی ایمبیسیڈر بھی ہیں، منیش ملہوترا کے تیار کردہ خصوصی لباس میں ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں اور اپنی منفرد شخصیت کے باعث توجہ کا مرکز بن گئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایشوریا نے اس موقع پر اِنڈِگو رنگ کی ری امیجڈ شیروانی زیب تن کی جو روایتی اور جدید فیشن کا حسین امتزاج تھی۔ ڈیزائنر منیش ملہوترا کے مطابق یہ تخلیق مردانہ ورثے سے متاثر ہے لیکن اس میں جدید نزاکت اور فیشن ایج شامل کیا گیا ہے جو اسے منفرد بناتا ہے۔
اس لباس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہیرے کی کڑھائی والے کف، ڈائمنڈ اسکالپ ڈیزائن، ٹسل ڈراپ اور ہیروں سے مزین بروچز شامل تھے، جو اس شو کی شان بڑھانے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے تھے۔
A post common by Aishwarya Rai Team???????? (@aishwarya_raifan)
شیروانی میں بند کالر، ہیرے جڑے بٹن، پیڈڈ شولڈر اور لمبی آستینوں کے ساتھ سائیڈ اور فرنٹ سلیٹس دیے گئے تھے، جبکہ فلیئرڈ پینٹس نے اس کا اسٹائل مزید دلکش بنا دیا۔ اس کے ساتھ ایشوریا نے ہائی ہیلز، ڈائمنڈ اسٹڈز انگوٹھی پہن رکھی تھی۔
پیرس فیشن ویک سے ایشوریا رائے بچن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اور مداح ایک بار پھر ان کی خوبصورتی کے سحر میں جکڑے نظر آتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔