نمیبیا اور زمبابوے نے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں جگہ بنالی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
نمیبیا نے افریقی کوالیفائرز کے سیمی فائنل میں تنزانیہ کو باآسانی شکست دے کر مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
یہ نمیبیا کا چوتھا میگا ایونٹ ہوگا، اس سے پہلے وہ 2021، 2022 اور 2024 ایڈیشن میں بھی حصہ لے چکی ہے۔ زمبابوے نے دوسرے سیمی فائنل میں کینیا کو 7 وکٹ سے زیر کرکے ورلڈ کپ کا ٹکٹ پایا۔
اس سے قبل یورپی کوالیفائرز میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اٹلی نے پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرکے تاریخ رقم کی تھی جبکہ نیدرلینڈز بھی یورپ سے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں میں شامل ہوگیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق آئندہ سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 20 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ میزبان بھارت اور سری لنکا کے علاوہ افغانستان، آسٹریلیا، بنگلادیش، انگلینڈ، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز، امریکا اور نیوزی لینڈ گزشتہ ورلڈکپ کے سپر ایٹ مرحلے میں رسائی کے باعث براہِ راست ایونٹ میں شامل ہیں۔
ان کے علاوہ پاکستان، آئرلینڈ اور نیوزی لینڈ نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ کی بنیاد پر ٹورنامنٹ میں جگہ بنائی ہے۔ باقی تین ٹیموں کا تعین امریکا، ایشیا اور ایسٹ ایشیا پیسیفک ریجن کے کوالیفائرز سے ہوگا جس کے بعد مکمل لائن اپ کا اعلان کیا جائے گا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں ٹیموں کی بڑی تعداد اور نئے ممالک کی شمولیت نے شائقین کرکٹ کے جوش و خروش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔