جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن کی ستمبر 2025 کی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن نے ستمبر 2025 کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے دوران 113 لاپتا افراد کے کیسز نمٹائے گئے جبکہ بلوچستان میں 14 لاپتا افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچے۔
مارچ 2011 سے ستمبر 2025 تک کمیشن کو مجموعی طور پر 10 ہزار 636 کیسز موصول ہوئے جن میں سے 8 ہزار 986 نمٹائے جا چکے ہیں۔
چیئرمین جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیرِ قیادت کمیشن نے گزشتہ 3 ماہ میں 289 کیسز نمٹائے، یعنی اوسطاً ہر ماہ 96 کیسز حل ہوئے۔
مزید پڑھیں: انکوائری کمیشن برائے جبری گمشدگیوں کی تشکیل نو، جسٹس (ر) ارشد حسین کو سربراہ مقرر
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں قائم علاقائی دفتر بلوچستان کے کیسز کو نمٹا رہا ہے۔ لاپتا افراد کے اہلِخانہ کی سہولت کے لیے ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو بچوں کے ب فارم، پنشن اور دیگر مسائل میں ریلیف فراہم کرتا ہے۔
کمیشن نے تعلیم، صحت اور دیگر فلاحی امور میں لاپتا افراد کے خاندانوں کی معاونت کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
مزید برآں، ایسے کیسز جو ابھی زیرِ تفتیش ہیں اور جنہیں جبری گمشدگی قرار نہیں دیا گیا، ان کی معاونت کے لیے بھی متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
14 لاپتا افراد جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 14 لاپتا افراد جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن جسٹس ر سید ارشد حسین شاہ انکوائری کمیشن جبری گمشدگیوں لاپتا افراد کے لیے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔