وفاقی وزیر آئی ٹی کی سعودی ٹیلی کام کمپنی کے حکام سے ملاقات، سائبر سیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ اور سعودی ٹیلی کمپنی کے حکام کے درمیان فائبر نیٹ ورک، کلاؤڈ، سائبر سیکیورٹی اور فن ٹیک پر تعاون اور شراکت داری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کام سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے سعودی ٹیلی کام کمپنی کے حکام سے ملاقات کی اور پاکستان میں فائبر نیٹ ورک، کلاؤڈ، سائبر سیکیورٹی اور فن ٹیک پر تعاون پر بات چیت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں کاروباری مواقع اور سرمایہ کاری کے امکانات پر توجہ مرکوز کی گئی اور پاکستان کی کنیکٹ پاکستان 2030 پالیسی کے تناظر میں ایس ٹی سی کے ساتھ شراکت داری پرغور کیا گیا۔
وزارت آئی ٹی کے مطابق پاکستان میں فائبر نیٹ ورک، کلاؤڈ، سائبر سیکیورٹی اور فن ٹیک پر تعاون پر بھی بات چیت کی گئی، پاکستانی آئی ٹی مارکیٹ کی 3.
اس موقع پر فن ٹیک اور کم لاگت کراس بارڈر پیمنٹس پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں پاکستان کے خطے میں ریجنل ٹرانزٹ ہب کے کردار کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر جی سی سی، ایشیا اور افریقہ کو کنیکٹ کرنے میں پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا گیا، سب میرین کیبلز اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی منصوبوں میں شراکت داری کے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایس ٹی سی سعودی عرب اور جی سی سی کی سب سے بڑی ٹیلی کام آپریٹر ہے اور وژن 2030 کے ڈیجیٹل ایجنڈے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سائبر سیکیورٹی ٹیلی کام کیا گیا آئی ٹی فن ٹیک ٹی اور
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔