data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں ہونے والے مظالم، گلوبل صمود فلوٹیلا کے شرکا کی گرفتاریوں،حکومت پاکستان کے دو ریاستی فارمولے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہا د امن منصوبہ میں سہولت کاری کے خلاف وسطی پنجاب کے تمام اضلاع فیصل آباد، سیالکوٹ، قصور، اوکاڑہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، حافظ آباد، چنیوٹ، جھنگ،گوجرانوالہ، نارووال، شیخوپورہ، ننکانہ، ساہیوال ،پاک پتن، لاہور میں احتجاجی مظاہرے اورریلیاں نکالی گئیں۔ان میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نوجوانوں، بچوں بوڑھوں نے شرکت کی، لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں مختلف بینرز، پینا فلیکس، کتبے اور چارٹ اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیلی جارحیت، گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے اور شرکا کی گرفتاریوں کے خلاف نعرے درج تھے، ان مظاہروں میں جماعت اسلامی کی مرکزی، صوبائی، ضلعی، مقامی قیادت کے ساتھ ساتھ سول آبادی سے بھی نمایاں شخصیات نے بھر پور شرکت کی۔ مظاہرین نے امریکا، اسرائیل اور اقوام متحدہ کی ناکامی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مقررنین نے ’’صمود غزہ فلوٹیلا‘‘ پر اسرائیلی افواج کے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کا دو قومی ریاستی فارمولا در حقیقت اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ اسرائیل کا انسانی ہمدردی کے کارکنان کو حراست میں لینا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، تمام امدادی کارکنوں کی غیر مشروط رہائی اور فلسطینیوں تک امداد کی بلا تعطل ترسیل کو ممکن بنایا جائے۔ اسرائیلی ظلم اور بربریت کو فوری طور پر روکنا اور فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنانا ہی وقت کا تقاضا ہے۔ اس فلوٹیلا میں 45 ممالک کے 450 سے زائد امدادی کارکن سوار تھے، جنہیں اسرائیلی افواج نے غیرقانونی طور پر حراست میں لے لیا۔مشتاق احمد خان‘ مظہر سعید شاہ‘ وہاج احمد‘ ڈاکٹر اسامہ ریاض‘ اسماعیل خان‘ سید عزیز نظامی اور فہد اشتیاق سمیت دیگر پاکستانیوں نے فرض کفایہ ادا کیا ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے اوکاڑہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صمود فلوٹیلا میں 45 سے زائد کشتیوں پر تقریباً 500 انسانی حقوق کے کارکنان، پارلیمنٹیرینز، وکلا اور صحافی سوار تھے، جو غزہ کے عوام تک ادویات اور خوراک پہنچانا چاہتے تھے ان کی گرفتاری غیر قانونی، غیر اخلاقی اور عالمی قوانین کے خلافی ورزی ہے۔ اسرائیل نے بے شرمی کی انتہا کر دی ہے، دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ عالمی دہشت گرد کون ہے۔ صیہونی فوج غزہ میں نسل کشی کر رہی ہے۔ 66 ہزار افراد کی شہادت میں 70 فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں۔ دنیا آخر کب تک خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جس کا وجود ہی دنیا کے لئے سنگین خطرہ ہے اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان سمیت لندن، استنبول، بوگاٹا، مانچسٹر، اسپین، تیونس، لیبیا، ملائیشیا، ترکیہ، مصر، اٹلی، برطانیہ، کینیڈا، لاطینی امریکا میں مظاہرے ہو رہے ہیں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ انسانیت کے علمبردار ممالک، ادارے انسانی حقوق کے کارکنوں کی فوری رہا ئی کو یقینی بنائیں۔ امن قافلے غیر مسلح،ان کا مقصد اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ میں ہونے والے ظلم و بربریت، نسل کشی، خواتین اور بچوں کو شہید کر نے والوں کا محاصرہ ختم کرنا اور امداد کو غزہ کے بچوں تک پہنچانا ہے۔ نہتے اور پر امن لوگوں کی گرفتاریوں کاعالمی برادری اس کا سخت نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ امداد لے کر جانے والے فلوٹیلا میں دنیا بھر سے افراد شامل ہیں جن کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

وقائع نگار خصوصی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان