Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:37:26 GMT

اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کی آخری کشتی کو بھی روک لیا

اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT

اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کی آخری کشتی کو بھی روک لیا

 

اسرائیلی فورسز نے امدادی سامان سے لدے جہازوں کے قافلے کی آخری کشتی کو بھی غزہ میں داخل ہونے کی کوشش میں روک لیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق “مارینیٹ” (Marinette) نامی اس کشتی پر پولینڈ کا پرچم لہرا رہا تھا اور اس پر 6 رضاکار سوار تھے جن کا تعلق جرمنی، ترکی، عمان اور آسٹریلیا سے ہے۔
یہ کشتی غزہ کے ساحل سے صرف 42.

5 ناٹیکل میل کی دوری پر تھی کہ اسرائیلی بحریہ نے اسے روک کر اشدود کی بندرگاہ منتقل کر دیا اور تمام رضاکاروں کو بھی حراست میں لے لیا۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے بتایا کہ خوراک اور ادویات سے لدے 43 کشتیوں پر مشتمل اس بحری بیڑے کی تمام کشتیاں اور اس میں سوار تمام 500 رضاکاروں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔  ان رضاکاروں میں دنیا کے نامور وکلا، پارلیمانی نمائندے اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ عالمی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی  کہ گرفتار رضاکاروں کو صحرائے نقب کی کیچزیوت جیل (Ketziot prison) منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں وہ ڈی پورٹیشن مکمل ہونے تک قید رہیں گے۔ اب تک متعدد یورپی شہریوں کو واپس بھیجنے کی تیاری کی جا چکی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور جنگ زدہ علاقے میں محصور فلسطینیوں تک امدادی سامان پہنچانے کی ہر کوشش کو جارحیت سے روک رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش