پاکستان، امارات کے درمیان جدید ریلوے، علاقائی رابطے کیلئے شراکت داری بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ریلوے کی جدید کاری اور علاقائی رابطے پر شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے مطابق وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے ابو ظہبی میں یو اے ای کے وزیر برائے توانائی و انفراسٹرکچر سہیل محمد المزروعی سے ملاقات کی، جہاں ’پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنے، تجارت کو فروغ دینے، رابطہ بڑھانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی حمایت کرنے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع‘ پر بات چیت ہوئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی تجدید کی اور باہمی خوشحالی کو آگے بڑھانے اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے حل کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ ملاقات گلوبل ریل انفراسٹرکچر کانفرنس و نمائش کے موقع پر ہوئی، جو 30 ستمبر سے 2 اکتوبر تک منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے وزرائے ٹرانسپورٹ، پالیسی ساز اور صنعت کے رہنما شریک ہوئے تاکہ ریل اور انفراسٹرکچر کے مستقبل کو تشکیل دیا جا سکے۔وزیر مملکت خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے متحدہ عرب امارات کے الفایا ریلوے سٹیشن کا دورہ کیا اور اتحاد ریل کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی جدید ترین اور تیز رفتار ٹرین میں الفایا ڈپو سے دبئی کے علاقے القدرہ تک کا سفر کیا۔ الفایا ریلوے سٹیشن پہنچنے پر یو اے ای اور اتحاد ریل کے حکام نے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کا استقبال کیا اور ریل کی خصوصیات اور ریل نیٹ ورک کے بارے میں آگاہ کیا۔ بلال اظہر کیانی نے الفایا ڈپو میں کنٹرول روم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں ریل نیٹ ورک آپریشن چلانے والی جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلال اظہر کیانی
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔