عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ معاہدے کا خیر مقدم: کشمیری بھائیوں کے مسائل ترجیحاً ختم کرینگے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے لیے عوامی مفاد اور امن سب سے اہم ترجیح ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے مسائل کے حل کے لیے حکومت ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی مشکل گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
پرائم منسٹر آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے حکومتی مذاکراتی ٹیم اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کمیٹی کے اراکین کو ان کی محنت اور سنجیدہ کوششوں پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
شہباز شریف نے اس پیش رفت کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن کا قیام ہی سب سے بڑی کامیابی ہے اور یہ بات اطمینان بخش ہے کہ حالات معمول پر آگئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ الحمدللہ سازشیں اور افواہیں دم توڑ چکی ہیں، اور اب تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ کشمیری عوام کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے بھی کشمیری عوام کے حقوق کی محافظ رہی ہے اور آئندہ بھی ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ کشمیری عوام سے گزارش ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں، کیونکہ افواہیں پھیلانے والے عناصر صرف انتشار چاہتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل پر ہمیشہ توجہ دی گئی ہے اور میری حکومت نے انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی روایت برقرار رکھی ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کی حکومت کشمیری عوام کی خدمت جاری رکھے گی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف عوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مستقبل میں استحکام اور ترقی کی راہیں بھی کھولے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کشمیری عوام ایکشن کمیٹی کمیٹی کے کے مسائل عوام کے ہے اور کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔