کرک پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی جب کہ کالعدم تنظیم کے اہم کارندے نے ریاست کے سامنے سرینڈر کردیا۔

ڈی پی او شہباز الہیٰ کی قیادت میں امن دشمن عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، خٹک اتحاد کی کوششوں سے کالعدم تنظیم کا کارندہ قومی دھارے میں واپس آگیا۔

سرینڈر ہونے والا نوجوان المعروف ساحل کالعدم تنظیم سے وابستہ تھا، ساحل نے خٹک اتحاد کی وساطت سے پولیس اور ریاستِ پاکستان کے سامنے خود سپردگی کی۔

ڈی پی او کرک شہباز الٰہی نے کہا کہ غلطی کا اعتراف کرنے والوں کے لیے ریاست کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، قومی دھارے میں واپس آنے والوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔

خٹک اتحاد کے صدر الحاج مدثر ایوب نے کہا کہ مزید گمراہ نوجوان بھی سرینڈر کے لیے تیار ہیں۔

سرینڈر ہونے والے نوجوان نے انکشاف کیا کہ  کالعدم تنظیم غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہی تھی، ساحل نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان کو کمزور اور عوام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، ان کے مکروہ عزائم انسانیت کے تصور سے بھی گرے ہوئے ہیں، اسلام کے نام پر ورغلا کر یہ اسلام کے قلعے پاکستان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

علمائے کرام نے کہا کہ خوارج اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں، بے گناہوں کا خون بہانے والے عناصر کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اسلام امن، محبت اور انسانیت کا دین ہے۔

کرک پولیس ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام دیگر گمراہ نوجوانوں کے لیے ایک مثبت مثال ہے، ریاستِ پاکستان ہر شہری کو اصلاح اور واپسی کا موقع فراہم کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کالعدم تنظیم نے کہا کہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد