اسرائیلی فوج نے غزہ میں بمباری مزید تیز کردی، جبری انخلاء کا نیا حکم
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
عالمی مطالبات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بمباری روکنے کی اپیل کے باوجود، اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کو ’’جنگی علاقہ‘‘ قرار دے کر حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، اسرائیل نے شمالی غزہ میں فلسطینیوں کو ایک بار پھرجبری انخلاء کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جبکہ شہر کا مکمل محاصرہ بدستور جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق،جنوبی غزہ میں پہلے سے بےدخل لاکھوں فلسطینی خستہ حال، تنگ و تاریک خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں بنیادی سہولیات بھی ناپید ہیں۔ ایک بے گھر فلسطینی نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں امید تھی کہ حماس کے جواب کے بعد شاید کچھ بہتری آئے گی، مگر صورت حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کی شدید بمباری کے نتیجے میںرہائشی عمارتیں، اسکول اور دیگر انفراسٹرکچر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق، اب تک4 لاکھ سے زائد فلسطینی شمالی علاقوں سے جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ بلند عمارتوں کی مسماری اور مسلسل بمباری کے باعث جبری انخلا کا دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے، جس سے خطے میں انسانی جانوں کا ضیاع بڑھنے کا خطرہ ہے۔
اسرائیلی اقدامات پر عالمی سطح پر تنقید بڑھ رہی ہے، لیکن عملی سطح پر فلسطینی عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا، اور مسلسل بمباری نے غزہ کو مکمل طور پرانسانی المیے میں دھکیل دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فہد مصطفیٰ نےپنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی
معروف اداکارفہد مصطفیٰ نے پنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی۔ فہد مصطفیٰ نے مریم اورنگزیب کو اس حوالے سے خط ارسال کر دیاہے جس میں کہاہے کہ مالز کی جلد بندش سے فلمی صنعت متاثر ہو رہی ہے،سینما کےاوقات میں توسیع سے ٹکٹ فروخت اور آمدن میں اضافہ ہوگا۔فہدمصطفیٰ نےخط میں سینما انڈسٹری اور فلم ڈسٹری بیوشن کو ریلیف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اوقات کار میں نرمی سے روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ فہدمصطفیٰ نے مزیدکہاکہ پنجاب حکومت کے فلم انڈسٹری کے لیے اقدامات قابلِ ستائش ہیں،سینما اوقات کار میں معمولی توسیع سے شائقینِ فلم کو سہولت ملے گی،امیدہے کہ حکومت میری درخواست پر مثبت غور کرے گی،اس اقدام سے فلم سازوں، سینما مالکان اور ناظرین کو فائدہ ہوگا۔